30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی اپنے کو رعایا سے ایسے چھپاکر نہ رکھنا کہ لوگ تم تک پہنچ کر فریاد نہ کرسکیں بلکہ تمہارے دروازے مظلوموں کے لیے کھلے رہیں۔
۵؎ یعنی تم کو معزول بھی کردیں گے اور سزا بھی دیں گے یا رب تعالٰی تم کو دنیا و آخرت میں سزا دے گا،کس چیز کی سزا،عیش و عشرت میں غافل ہوکر رعایا کی پرواہ نہ کرنا،ظلم کرنا،رشوت خوری کرنا کیونکہ مذکورہ عیش کے یہ نتیجے ہیں لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ گھوڑے کی سواری تو سنت ہے اور میدہ کھانا،باریک کپڑا پہننا جائز ہے اور سنت و جائز کام پر سزا کیسی؟خیال رہے کہ عیش پسند حکام حکومت سے بھاری تنخواہ کا بھی مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے یہ دھڑلّے کے خرچ پورے ہوسکیں پھر حکومتیں ان کی بھاری تنخواہیں ادا کرنے کے لیے رعایا پر طرح طرح کے ٹیکس لگاتی ہیں اور غریبوں کا خون چوس کر عیش پسند حکام و ملازمین کے شوق پورے کیے جاتےہیں جس سے ملک میں بغاوتیں فساد برپا ہوجاتے ہیں،اسلام نے سادگی سکھائی نہ تم خرچ اپنے بڑھاؤ نہ یہ مصیبتیں اٹھاؤ،رب تعالٰی نے فرمایا:"کُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا"اور دوسری جگہ فرمایا:"اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوٰنَ الشَّیٰطِیۡنِ"قربان جائیے اس تعلیم کے لہذا امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بڑی دور اندیشی پر مبنی ہے۔
۶؎ وہاں تک پہنچانے جاتے جہاں تک آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حکام کو پہنچانے تشریف لے جاتے تھے صورت بھی وہی ہوتی تھی کہ وہ حاکم سوار ہوتے تھے اور امیر المؤمنین پیدل رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع