30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3729 -[8] عَنْ أَبِي الشَّمَّاخِ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَتَى مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ دُونَ الْمُسْلِمِينَ أَوِ الْمَظْلُومِ أَوْ ذِي الْحَاجَةِ أَغْلَقَ اللَّهُ دُونَهُ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ حَاجَتِهِ وَفَقْرِهِ أَفْقَرَ مَا يَكُونُ إليهِ» |
روایت ہے حضرت ابو شماخ ازدی سے وہ اپنے چچازاد سے راوی ۱؎ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ہیں کہ وہ جناب معاویہ کے پاس گئے ۲؎ پھر فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو لوگوں کی کسی چیز کا والی بنایا گیا۳؎ پھر اس نے مسلمانوں یا مظلوموں یا حاجت مندوں پر اپنا دروازہ بندکرلیا۴؎ تو اﷲ اس کی محتاجی اس کی فقیری کے وقت اس پر اپنی رحمت کے دروازے بند کرلے گا ۵؎ جب کہ اسے ان سے سخت محتاجی ہوگی ۶؎ |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ ابو شماخ تابعی ہیں اور ان کے چچازاد بھائی صحابی،ان کا نام معلوم نہ ہوسکا مگر کوئی حرج نہیں تمام صحابہ عادل ثقہ ہیں۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ حضرت معاویہ کی دورانِ سلطنت میں گئے یا صرف ملاقات کے لیے اور یہ حدیث تذکرۃً سنا دی یا یہ حدیث ہی سنانے کے لیے،پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں۔
۳؎ کہ بادشاہ بنادیا گیا یا حاکم۔ولّی ما ضی مجہول ہے لام کے شد سے یا فقط کسرہ سے یعنی باب تفعیل سے یا باب ضرب یضرب سے۔
۴؎ مظلوم اور ذی الحاجت کے عموم میں ذمی اور مستامن کفاربھی داخل ہیں کیونکہ بادشاہ وحکام پر تمام رعایا کی داد رسی واجب ہے مسلمان ہوں یا کافر۔
۵؎ دنیا و آخرت میں،اگر لوگ بادشاہ کے محتاج ہیں تو بادشاہ بھی رب تعالٰی کا حاجت مند ہے۔
۶؎ یعنی جب ایسے بادشاہ کو لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوئی تو اﷲ اس پر رحمت کے دروازے بندکرلے گا کہ لوگ اس کی مدد نہ کریں گے۔اس حدیث کا نظارہ کرنا ہے تو موجودہ زمانہ میں الیکشن کے وقت ووٹ کی بھیک مانگنے کا نظارہ کرو۔
|
3730 -[9] وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا بَعَثَ عُمَّالَهُ شَرَطَ عَلَيْهِمْ: أَنْ لَا تَرْكَبُوا بِرْذَوْنًا وَلَا تَأْكُلُوا نَقِيًّا وَلَا تَلْبَسُوا رَقِيقًا وَلَا تُغْلِقُوا أَبْوَابَكُمْ دُونَ حَوَائِجِ النَّاسِ فَإِنْ فَعَلْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ حَلَّتْ بِكُمُ الْعُقُوبَةُ ثُمَّ يُشَيِّعُهُمْ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ آپ جب اپنے حکام کو بھیجتے تھے ۱؎ تو ان پر شرط لگاتے تھے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا ۲؎ اور میدہ نہ کھانا اور باریک لباس نہ پہننا۳؎ اور اپنے دروازے لوگوں کی ضرورتوں سے بند نہ کرنا۴؎ اگر تم نے ان میں سے کچھ کیا تو تم پر سزا واقع ہوگی ۵؎ پھر انہیں پہنچانے جاتے تھے۶؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نےشعب الایمان میں روایت کیں۔ |
۱؎ عمال ع کے پیش میم کے شد سے جمع عامل کی بمعنی حاکم اور حکومت کا کارکن،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا"
۲؎ برذون ب کے کسرہ ر کے سکون اور ذال کے فتحہ سے بمعنی ترکی گھوڑا جو عربی گھوڑے سے گھٹیا ہوتا ہے، اس کی مؤنث برذونہ ہے جمع براذین یعنی اے حاکمو!تم اپنے مقام حکومت میں عربی گھوڑا تو کیا ترکی گھوڑے کی سواری کے عادی نہ ہوجانا،ضرورۃ سوار ہونے کی ممانعت نہیں تھی بلکہ اظہار شان کیلیے گھوڑا پالنا اور فخریہ گھوڑے پر سوار ہوکر نکلنے کی ممانعت تھی اور اس ممانعت میں بہت سی حکمتیں تھیں۔
۳؎ کیونکہ ان چیزوں سے طبعیت عیش پسند ہوجاتی ہے اور عیش پسند حاکم صحیح طور پر حکومت نہیں کرسکتا اور رعایا کے دکھ درد سے خبردار نہیں رہ سکتا،نیز جب حاکم زیادہ خرچ کرنے کا عادی ہوگا تو وہ خرچ پورا کرنے کے لیے رشوت ستانی حرام خوری کرے گا کیونکہ اس کی تنخواہ ان خرچوں کی متحمل نہیں ہوسکے گی،سادے بنو اور رعایا کو سادہ بناؤ تاکہ زندگی و موت اچھی ہو،کہاں گئے وہ خلفاء اور کہاں گئے وہ حکام۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع