30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس حدیث کی بنا ء پر امام شافعی فرماتے ہیں عورت کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت شرط ہے عورت بالغہ ہویا نابالغہ ہمارے ہاں نابالغ لڑکے یا لڑکی کے نکاح میں ولی شرط ہے،بالغ کے لیے نہیں یہ حدیث ظاہری معنی میں امام شافعی کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ بالغ لڑکے کا نکاح بغیر ولی جائز مانتے ہیں یہاں لڑکے یا لڑکی کی قید نہیں۔ہمارے امام صاحب کے ہاں اس حدیث میں نابالغ یا مجنون یا لونڈی غلام مراد ہیں یا یہاں نفی استحباب ہے یعنی بغیر ولی لڑکے لڑکی کا نکاح بہتر نہیں۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں نیز ظاہری معنی سے یہ حدیث قرآن کریم کے بھی خلاف ہوگی کہ رب تعالٰی نے فرمایا:"فَلَا تَعْضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحْنَ اَزْوٰجَہُنَّ"عورتیں اپنے خاوندوں سے نکاح کریں تو تم انہیں نہ روکو،اور گزشتہ مسلم کی حدیث کے بھی خلاف ہوگی کہ الا یم احق بنفسھا من ولیھا۔(مسلم،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،مالک)لہذا امام اعظم کی توجیہ نہایت ہی قوی ہے۔
|
3131 -[6] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلَيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ من لَا ولي لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت بغیر اجازت ولی اپنا نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے اس کا نکاح باطل ہے اس کا نکاح باطل ہے ۱؎ لیکن اگر مرد نے اس سے صحبت کرلی تو اسے مہر ملے گا،اس کے عوض کہ اس نے اس کی شرمگاہ سے فائدہ اٹھایا۲؎ پھر اگر اولیاء اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے،جس کا کوئی ولی نہیں ۳؎(احمد،ترمذی، ابو داؤد،ابن ماجہ،دارمی)۴؎ |
۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی طرح ضعیف و مضطرب ہے چنانچہ اس حدیث سے عائشہ صدیقہ کا امام زہری نے انکار فرمایا دیکھو طحاوی،ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب سے اس حدیث کے متعلق پوچھا انہوں نے اس سے انکار کیا۔(مرقاۃ)امام احمد نے بھی اس حدیث کی صحت کا انکار کیا۔(اشعہ)اگر صحیح مان بھی لی جائے تو عورت سے مراد لونڈی یا دیوانی عورت مراد ہے یا وہ صورت مراد ہے کہ عورت غیر کفو میں بغیر اجازت ولی نکاح کرے کہ یہ نکاح درست نہیں ورنہ یہ حدیث قرآن کریم کے بھی خلاف ہوگی اور گزشتہ حدیث مسلم کے بھی، رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗ"یعنی طلاق والی سے نکاح خاوند اولیٰ نہ کرے حتی کہ یہ عورت دوسرے خاوند سے نکاح کرے۔ بہرحال مذہب حنفی اس بارے میں بہت قوی ہے،جب آزاد عورت اپنے مال کی مختار ہے تو اپنے نفس کی بھی مختار ہے۔
۲؎ یعنی ایسے نکاح کا حکم یہ ہے کہ اگر خاوند اس سے صحبت کرلے پھر قاضی ان دونوں کی علیحدگی کا حکم دے تو اسے مقرر شدہ مہر یا مہر مثل ملے گا۔معلوم ہوا کہ یہاں باطل سے مراد فاسد ہے کہ نکاح فاسد کا یہ ہی حکم ہے کہ حاکم تفریق کرادے گا مگر صحبت ہو چکنے کی صورت میں عورت کو مہر ملے گا،نکاح فاسد و باطل کا فرق اور ان کے احکام ہمارے فتاویٰ میں ملاحظہ فرمایئے۔
۳؎ یعنی اگر کسی عورت کے نکاح میں ایک درجہ کے اولیاء مختلف ہوں کہ کوئی ولی کہیں نکاح کرنا چاہے دوسرا ولی کہیں اور، جیسے عورت کے چند بھائی یا چند چچا ولی ہوں اور یہ اختلاف واقع ہو تو پھر حاکم وقت سلطان یا سلطان کا مقرر کردہ حاکم ولی ہوگا وہ جہاں چاہے نکاح کرے کیونکہ اولیاء کا اختلاف ان کو کالعدم بنادیتا ہے اور جس کا ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہوتا ہے،اس کا ولی بھی سلطان ہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع