30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الْمُلْکِ"۔مطلب یہ ہے کہ میں بادشاہوں کے ظاہروباطن کا بادشاہ اور مالک ہوں وہ سب مجبورومحکم ہیں ان کے دل وزبان و قلم سب میرے قبضہ میں ہیں۔
۲؎ یعنی اگر عام لوگ اور اکثر رعایا میری مطیع ہوجائے تو میں بادشاہوں کے دل میں رحمت و الفت پیدا کردوں گا۔خیال رہے کہ رافت رحمت سے قوی ہوتی ہے مہربانی کو رحمت کہتے ہیں اور بہت ہی زیادہ مہربانی کو رافت،رب تعالٰی فرماتاہے:"بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ"۔
۳؎ یہاں بھی سخط سے نقمۃ سخت تر ہے،نقمت سے انتقام ہےبمعنی بدلہ لینا۔معلوم ہوا کہ بادشاہوں کی سختی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔
۴؎ یہ قاعدہ اکثریہ ہے اکثر ہمارے بداعمال کی سزا حاکم کا ظلم ہوتا ہے جب اکثریت بدعمل ہوجائے تو سلطان و حکام ظالم ہوتے ہیں پھر ان کے ظلم کا شکار نیک لوگ بھی ہوجاتے ہیں،کبھی رب تعالٰی کی طرف سے آزمائش کے طور پربھی حاکم ظالم مسلط ہوجاتے ہیں لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جناب خلیل اﷲ کو نمرود سے اور موسیٰ علیہ ا لسلام کو فرعون سے اور حضرت حسین کو یزید سے تکالیف کیوں پہنچیں؟وہ حضرات بہت نیک تھے یہ ایسے ہی جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَاۤ اَصٰبَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ"۔
۵؎ یعنی ظالم بادشاہوں کی معزولی یا موت کی دعائیں نہ کرو ممکن ہے اس ظالم کے بعد کوئی اور بڑا ظالم ترتم پر مسلط ہوجائے،وجہ ظلم کو دورکرو یعنی گناہوں سے توبہ کرو۔
۶؎ یعنی تم میری اطاعت کرنے لگو حکام تم پر نرم ہوجائیں گے۔شعر
سائیں تیری روٹھ سے میرا آور کرے نہ کوئے دُر دُر کریں سہیلیاں میں مڑ مڑ دیکھوں توئے
سائیں انکھیاں پھیریاں میرا ویری ملک تمام ذرا سی جھانکی مہر کی تو لاکھوں کریں سلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع