30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3720 -[60] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من نَظَرَ إِلَى أَخِيهِ نَظْرَةً يُخِيفُهُ أَخَافَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَى الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى هَذَا: مُنْقَطع وَرِوَايَته ضَعِيف |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے بھائی کی طرف ۱؎ ڈرانے کے لیے گھورے اسے اﷲ تعالٰی قیامت کے دن ڈرائے گا۲؎ یہ چاروں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں اور یحیی کی حدیث کے متعلق فرمایاکہ یہ منقطع ہے۳؎ اور اس کی روایت ضعیف ہے۴؎ |
۱؎ بھائی سے مراد مسلمان بھائی ہے یعنی جوشخص کسی مسلمان کو بلاقصور تیز نظر سے گھور کر ڈرائے ورنہ قصورمند کو گھورنا ڈرانا ضروری ہے۔
۲؎ یہ حدیث اس باب میں لانے کا مقصد یہ ہےکہ جب کسی کو بلاقصو ر گھو ر کرڈرانا اتنے بڑے وبال کا ذریعہ ہے تو جو ظالم حاکم لوگوں کو ستائے وہ کتنا بڑا مجرم ہوگا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو رحمت کی نظر سے دیکھنا ثواب ہے کہ اللہ تعالٰی اسے عنایت کی نظر سے دیکھے گا،یہ بھی معلوم ہواکہ انسان حکومت وسلطنت پاکر فرعون نہ بن جائے ،اپنی مسلمان رعایاکو اپنا دینی بھائی سمجھے اور کافر رعایا کو اپنے دامن کرم میں چھپائے۔
۳؎ یہاں منقطع سے مراد مرسل ہے کیونکہ اس میں صحابی کاذکر نہیں ،وہ صحابی ابو بکرہ ہیں مگر صرف ارسال مضر نہیں کیونکہ مرسل حدیث جمہور کےنزدیک مقبول ہے۔(مرقات)
۴؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ روایات یحیی موضوع ہیں۔خیال ہے کہ روایت مؤنث ہے مگر چونکہ فعیل صفت مشبہ میں مذکر مؤنث یکساں ہیں اس لیے ضعیفہ کہنا ضروری نہیں ضعیف بھی جائز ہے۔
|
3721 -[61] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا مَالِكُ الْمُلُوكِ وَمَلِكُ الْمُلُوكِ قُلُوبُ الْمُلُوكِ فِي يَدِي وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا أَطَاعُونِي حَوَّلْتُ قُلُوبَ مُلُوكِهِمْ عَلَيْهِمْ بِالرَّحْمَةِ وَالرَّأْفَةِ وَإِنَّ الْعِبَادَ إِذَا عَصَوْنِي حَوَّلْتُ قُلُوبَهُمْ بِالسُّخْطَةِ وَالنِّقْمَةِ فَسَامُوهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ فَلَا تَشْغَلُوا أَنْفُسَكُمْ بِالدُّعَاءِ عَلَى الْمُلُوكِ وَلَكِنِ اشْغَلُوا أَنْفُسَكُمْ بِالذِّكْرِ وَالتَّضَرُّعِ كَيْ أَكْفِيَكُمْ ملوكَكم «. رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي» الْحِلْيَةِ " |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے میں اﷲ ہوں،میرے سوا کوئی معبود نہیں میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ۱؎ بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں اور بے شک بندے جب میری فرمانبرداری کریں گے تو میں ان کے بادشاہوں کے دل ان پر رحمت و الفت سے بھردوں گا ۲؎ اور جب بندے میری نافرمانی کریں گے تو ان کے دل ناراضی و سزا کے ساتھ پھیردوں گا ۳؎ کہ وہ انہیں سخت عذاب چکھائیں گے۴؎ تو تم اپنے کو بادشاہوں پر بددعا کرنے میں مشغول نہ کرو ۵؎ لیکن اپنے کو ذکر و عاجزی میں مشغول کرو تاکہ میں تمہیں بادشاہوں سے کفایت کروں ۶؎ (ابو نعیم حلیہ میں) |
۱؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ مالک کے بعد ملک فرمانے میں اعلیٰ کی طرف ترقی ہے کیونکہ مالک سے ملک یعنی بادشاہ قوی ہے کہ بادشاہ کی حکومت ہوتی ہے مالک کی حکومت نہیں،نیز مالک ہر چیز کا ہوتا ہے مگر بادشاہ انسانوں کا مگر حق یہ ہے کہ یہاں اعلیٰ سے نزول ہے بادشاہ سے مالک کا قبضہ زیادہ ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِ"اور فرماتاہے:"قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع