30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3714 -[54] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أتاهُ اللَّهُ عزَّ وجلَّ مغلولاً يومَ القيامةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ وَآخِرُهَا خِزْيٌ يومَ القيامةِ» |
روایت ہے حضرت ابوامامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی آپ نے فرمایا نہیں ہے کوئی شخص جو دس یا اس سے زیادہ شخصوں کے کام کا والی بنے مگر اﷲ عزوجل اسے قیامت کے دن اس طرح لائے گا کہ اس کا ہاتھ گردن سے بندھا ہو گا ۱؎ پھر یا اس کی نیکی کھول دے یا اس کا گناہ اسے ہلاک کردے اس کی ابتداء ملامت ہے اس کا بیچ شرمندگی ہے اور اس کی انتہا قیامت کے دن رسوائی ۲؎ |
۱؎ یعنی حاکم عادل ہو یا ظالم آئے گا اس ہی حالت میں،یہ ان حکام کے لیے ہے جو نفسانی طور پر حکومت کے خواہش مند ہوں کہ یہ طلب جرم ہے،جس کی سزا یہ ہے پھر عادل چھوٹ جائیں گے اور ظالم جوتے کھائیں گے لہذا حدیث بالکل واضح ہے،اسے حضرات خلفاء راشدین یا حضرت داؤدو سلیمان علیہما السلام سے کوئی تعلق نہیں،دیکھو یہاں یلی ارشاد ہوا ولی نہ فرمایا گیا۔
۲؎ یعنی اس قسم کی حکومت کی ابتداء مخلوق کی ملامت ہے اور درمیان میں خود حاکم کا نفس لوّامہ اسے ملامت کرتا ہے اور اس کا نتیجہ قیامت کی رسوائی،بعض ناتجربہ کار لوگ حکام کی ظاہری شان و شوکت وتنخواہ دیکھ کر بکوشش حاکم بن جاتے ہیں،لوگ بلکہ خود ان کے قرابتدار انہیں ملامت کرتے ہیں دنیا گالیاں دیتی ہے،یہ تو دنیا کے انعام ہیں،آخرت میں جو ہوگا وہ ناقابل برداشت ہے، یزید حجاج، مروان اس حدیث کی زندہ جاوید شرح ہیں۔شعر
نہ ماند ستم گار و بد روز گار بماند برو لعنت پائیدار
|
3715 -[55] وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَاعْدِلْ» . قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم حَتَّى ابْتليت |
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اے معاویہ اگر تم حکومت کے والی بنائے جاؤ تو اﷲ سے ڈرنا اور انصاف کرنا ۱؎ فرماتے ہیں کہ پھر میں گمان کرتا رہا کہ میں حکومت میں مبتلا ہوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی وجہ سے یہاں تک کہ مبتلا کیا گیا ۲؎ |
۱؎ اِن اگرچہ شک کے لیے آتا ہے مگر اﷲ رسول کے ایسے فرمانوں میں یقین کے لیے ہے جیسے قرآن کریم فرماتا ہے:"اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمۡ بَعْضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمْ"یا جیسے اِنۡ کَانَ مِنْ عِنۡدِ اللہِ ثُمَّ کَفَرْتُمۡ بِہٖ"۔چنانچہ جناب معاویہ سلطان اسلام بنے وہ اس خبر کا ظہور تھا جو کچھ مبارک منہ سے نکلتا ہے حق ہوتا ہے۔
۲؎ یہاں بھی اظن،بمعنی اتیقن ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ"یعنی مجھے اس فرمان عالی کی بنا پر یقین ہوگیا تھا کہ مجھے حکومت یقینًا ملنی ہے ،تقدیر الٰہی یوں ہی ہے۔چونکہ تقویٰ اور عدل دونوں چیزوں اور ان کا اجتماع بہت اہم ہے اس لیے آپ نے حکومت ملنے کو مبتلا ہونا یعنی آزمائش کیا جانا فرمایا۔
|
3716 -[56] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ». رَوَى الْأَحَادِيثَ السِّتَّةَ أَحْمَدُ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ حَدِيثَ مُعَاوِيَةَ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّة» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ستر کی ابتداء ۱؎ اور لونڈوں کی سلطنت سے اﷲ کی پناہ مانگو ۲؎ ان چھ حدیثوں کو احمد نے روایت کیا اور حدیث امیر معاویہ کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل فرمایا ۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع