30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی مجھے اس کا بھی خطرہ ہے کہ میرے بعد بادشاہ ظلم کیا کریں گے اور رعایا بغاوت کیا کرے گی جس سے امن قائم نہ ہوگا اور تقدیر کا انکار کرنے والے پیدا ہوتے رہیں گے۔قربان جاؤں اس غیوب داں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کہ جو کچھ فرمایا وہ ہوبہو آج تک دیکھنے میں آرہا ہے۔یہ فقیر بہت سے ممالک اسلامیہ میں گیا عراق،کویت،فلسطین،شام،ایران وغیرہ ہر جگہ راعی اور رعایا میں جھگڑے ہی دیکھے،مسلمان کہیں بھی چین سے نہیں ہیں،یہ سب کچھ اس کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کا بتایا ہوا راستہ چھوڑ دیا اﷲ تعالٰی ہم کو پھر بھولا سبق یاد دلادے۔
|
3713 -[53] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِتَّةَ أَيَّامٍ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ بَعْدُ» فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ» |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے ابوذر چھ دنوں کا خیال رکھو اس کے بعد تم سے کچھ کہا جائے گا ۱؎ پھر جب ساتواں دن ہوا تو فرمایا میں تم کو وصیت کرتا ہوں خفیہ و علانیہ میں اﷲ سے ڈرنا۲؎ اور جب تم گناہ کر بیٹھو تو بھلائی کرلو ۳؎ اور ہرگزکسی سے کچھ نہ مانگو اگرچہ تمہارا کوڑا ہی گرجائے ۴؎ اور امانت نہ رکھو اور دو کے درمیان فیصلہ نہ کرو ۵؎ |
۱؎ ستہ ایام مفعول ہے اعقل کا یعنی تم چھ دن گنتے رہو اور انتظار کرو ہم ساتویں دن تم سے ایک بات کہیں گے،یہ انتظارا س لیے کرایا گیا کہ جو بات انتظار کے بعد ملے وہ خوب یاد رہتی ہے اور اس کی قدر ہوتی ہے حضور حکیم ہیں جو کچھ فرماتے ہیں،پھر جو نصیحتیں فرمائی ہیں قسم رب تعالٰی کی اگر صرف پہلی ہی بات پر عمل کی توفیق مل جائے تو دین و دنیا سنبھل جائیں۔
۲؎ یعنی خلوت و جلوت تنہائی میں اور لوگوں کے سامنے خوف خدا کرو یا اپنے اعضاء ظاہری و باطنی سے خوفِ خدا کرتے رہو نہ اعمال برے کرو نہ نیت بری رکھو۔(لمعات)
۳؎ کہ اگر بتقاضاءبشری تم سے کوئی برائی ہوجائے تو اس کے کفارہ کے لیے کوئی نیکی کر لو گناہ کے بعد توبہ مقبول کرلو،نافرمانی کے بعد اطاعت کرلو،اگرکسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو اس سے زیادہ اسے آرام پہنچا دو،فرض نماز رہ گئی ہے تو قضا بھی کرلو کچھ نوافل بھی پڑھ لو۔غرضکہ یہ فرمان عالی دریائے ناپیدا کنار ہے۔
۴؎ یعنی جس سے مانگنا ذلت ہو اور توکل کے خلاف اس سے کچھ نہ مانگو،اﷲ تعالٰی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے مانگنا تو ہماری عزت ہے۔شعر
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا ہمیں بھیک مانگنے کو تیرا آستان بتایا تجھے حمد ہے خدایا
حضرت امام احمد ابن حنبل یہ دعا مانگا کرتے تھے"اللھم کما صنت وجھی عن سجود غیرك فصن وجھی عن مسئلۃ غیرك"خدایا جیسے تو نے میرے چہرے کو اپنے غیر کے سجدے سے بچایا ایسے ہی اپنے غیر سے مانگنے سے بچالے،بعض احادیث میں ہے کہ اگر مانگنا پڑ جائے تو صالحین سے مانگو۔(ابوداؤد،نسائی،عن الفراسی، مرقات)
۵؎ کیونکہ امین کو اکثر خیانت کی تہمت لگ جاتی ہے اور پنچ پر طرفداری یا رشوت خوری کا الزام لگ جاتا ہے اس لیے تم ان بکھیڑوں میں نہ پڑنا تم سے یہ بوجھ نہ اٹھ سکے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع