دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3129 -[4]

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جب وہ سات سال کی لڑکی تھیں ۱؎ اور رخصت ہوئیں جب وہ نو۹ برس کی لڑکی تھیں،ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے۲؎ اور حضور نے انہیں چھوڑ کر وفات پائی وہ جب ۱۸ سال کی تھیں ۳؎(مسلم)

۱؎ یعنی چھ سال کی ہو کر ساتویں سال میں داخل ہوچکی تھیں لہذا یہ روایت ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں آپ کی عمر اس وقت چھ سال کی مذکور ہے بہرحال آپ اس وقت بالغہ نہ تھیں۔معلوم ہوا کہ نابالغہ لڑکی کا نکاح ولی کرسکتا ہے۔نکاح کے لیے بلوغ شرط نہیں رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ الِّٰٓیۡٔۡ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیۡضِ"یعنی جن لڑکیوں کو ابھی حیض نہ آیا ہو اور انہیں طلاق ہوجائے تو ان کی عدت تین ماہ ہے اگر بچی نابالغہ کا نکاح درست نہ ہوتا تو اسے طلاق کیسی اور اس کی عدت تین ماہ کیسی آج بعض منکرین حدیث نابالغہ لڑکی کے نکاح کا انکار کرتے ہیں ان کا یہ انکار صریحی آیت قرآنی کے خلاف ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت عائشہ صدیقہ کا نکاح چھ سال کی عمر میں حدیث متواتر سے ثابت ہے،حضرت قدامہ ابن مظعون نے زبیر کی بیٹی کا نکاح تمام صحابہ کی موجودگی میں اسی دن کیا جس دن وہ پیدا ہوئی،نابالغ بچوں کے نکاح کے جواز پر تمام امت متفق ہے اور نابالغہ بالغ ہو کر باپ دادا کا کیا ہوا نکاح فسخ نہیں کرسکتی باقی اولیاء کا کیا ہوا نکاح فسخ کرسکتی ہے۔(مرقات)بعض حالات میں نابالغ اولاد کا نکاح کرنا ضر وری ہوجاتا ہے باپ قریب موت ہے اور بچی چھوٹی ہے وہ چاہتا ہے کہ میں اس کا زندگی میں نکاح کرجاؤں تاکہ میرے بعد یہ یتیمہ دھکے نہ کھائے اور میری روح کو تکلیف نہ ہو،غرض کہ اس اجازت میں صدہا حکمتیں ہیں۔

۲؎ غالب یہ ہے کہ حضرت ام المؤمنین اس وقت بالغہ ہوچکی تھیں لڑکی کی کم ازکم عمر نو برس ہے اور اگر قریب بلوغ بھی ہو تب بھی رخصتی ہوسکتی ہے۔اس حدیث کی بنا پر علماء نے فرمایا کہ بچیوں کو گڑیاں اور کھلونوں سے کھیلنا جائز ہے گڑیوں سے اسے سینا پرونا،امور خانہ داری کا طریقہ آجاتا ہے اگر کھلونوں اور گڑیوں کے آنکھ ناک نہ ہوں تب تو اس کے جواز میں کوئی شبہ ہی نہیں۔

۳؎ یعنی حضرت ام المؤمنین نو برس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں حضور کی وفات کے وقت آپ کی عمر شریف اٹھار سال کی تھی اور تریپن(۵۳)سال کی عمر میں وفات ہوئی،  ۵۷ھ؁ میں پینتیس سال اسی طرح گزارے کہ نہ حضور کی میراث پائی نہ رہنے کو گھر ملا نہ کسی سے نکاح جائز۔یہ ہے حضرت صدیق کی قربانی رضی اللہ عنہم اجمعین۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3130 -[5]

عَن أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی آپ نے فرمایا بغیر ولی نکاح نہیں ۱؎(احمد ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن