30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابوموسیٰ اشعری کو علی مرتضٰی اپنا حَکم و پنچ بنا لیں بعد میں خود ہی بولے کہ علی مشرک ہوگئے کہ انہوں نے ماسوی اﷲ کو حکم بنالیا،قرآن کریم فرماتاہے:"اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ"اور پھر حضرت علی سے پھرکر خارجی ہوگئے۔(دیکھئے کتب تواریخ اور کتاب ہشت بہشت)
|
3708 -[48] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ حاکم جب لوگوں میں تہمت و شک ڈھونڈنے لگے ۱؎ تو انہیں بگاڑ دے گا ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ حاکم میں بادشاہ وزیر حکام سب ہی داخل۔(مرقات)ریبہ ر کے کسرہ سے بمعنی شک و تہمت،قرآن کریم میں ہے"لَا رَیۡبَ فِیۡہِ"یعنی اگر سلطان یا حکام اپنی رعایا پر بدگمانی کرنے لگیں اور ان کے معمولی کاموں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں اور ان کی بلاوجہ پکڑ دھکڑ کرنے لگیں۔
۲؎ یعنی ان کے دین و دنیا تباہ کردے گا اور ملک میں فساد برپا ہوجائے گا کیونکہ عیوب سے بالکل خالی کوئی کوئی ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کے عیوب کی تلاش نہ کرو بلا وجہ ان پر بدگمانی نہ کرو،احادیث میں گزرچکا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اقراری زانی کو فرمایا شاید تو نے بوسہ لے لیا ہوگا۔
|
3709 -[49] وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّكَ إِذَا اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم جب لوگوں کے خفیہ عیوب کے پیچھے پڑو گے تو انہیں بگاڑ دو گے ۱؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ اس فرمان عالی میں خطاب خصوصی طور پر جناب معاویہ سے ہے کیونکہ آئندہ یہ سلطان بننے والے تھے تو اس غیوب داں محبوب صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے ہی ان کو طریقہ سلطنت کی تعلیم فرمادی کہ تم بادشاہ بن کر لوگوں کے خفیہ عیوب نہ ڈھونڈھا کرنا درگزر اور حتی الامکان عفووکرم سے کام لینا اور ہوسکتا ہے کہ روئے سخن سب سے ہو کہ باپ اپنی جوان اولاد کو،خاوند اپنی بیوی کو،آقا اپنے ماتحتوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے نہ دیکھے۔بدگمانیوں نے گھر بلکہ بستیاں بلکہ ملک اجاڑ ڈالے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"اور فرماتاہے:"وَلَا تَجَسَّسُوۡا"ہم اپنے عیب ڈھونڈیں اور لوگوں کی خوبیاں تلاش کریں۔خیال رہے کہ یہاں بلا وجہ کی بدگمانیوں سے ممانعت ہے ورنہ مشکوک اوربدمعاش لوگوں کی نگرانی کرنا سلطان کے لیے ضروری ہے، جاسوسی کا محکمہ ملک رانی کے لیے لازم ہے۔
|
3710 -[50] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةً مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟» . قُلْتُ: أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ قَالَ: «أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلقانِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسوقت تم کیسے ہوگے جب میرے بعدحکام اس غنیمت سے لوگوں کو ترجیح دینگے ۱؎ میں نے عرض کیا اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا پھر اس سے ماردوں گا یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں گا۲؎ فرمایا کیامیں تمہیں اچھی چیز پر راہبری نہ کروں صبرکرناحتی کہ مجھ سے مل جائے ۳؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع