30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3703 -[43] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ» : يَعْنِي الَّذِي يَعْشُرُ النَّاسَ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد والدارمي |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت میں ٹیکس وصول کرنے والا نہ جائے گا ۱؎ یعنی جوکہ لوگوں سے عشر لیتا ہے ۲؎(ابوداؤد،دارمی) |
۱؎ اس قسم کے فرمانوں کی شرح گزشتہ حدیث میں کی جاچکی ہے کہ فائزین کے ساتھ اول ہی سے جنت میں نہ جاسکے گا کیونکہ ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم اور رشوت خور ہوتے ہیں مگر جسے خدا بچائے،مکس کا ترجمہ ٹیکس نہایت مناسب ہے،آج کل عربی میں مال کے ٹیکس کو جمرك اور آدمی کے ٹیکس کو کوشان کہتے ہیں۔
۲؎ یہاں عشر سے مراد پیداوار کا دسواں حصہ اور خراج اور راستہ کی چونگی باہر سے آنے والے مال کا ٹیکس وغیرہ سب ہے،یہ تفسیر اس حدیث کے راوی محمد ابن اسحاق ابن مندہ کی ہے۔لفظ یعنی فرماکر انہوں نے فرمایا کہ صاحب مکس سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی مراد عشر لینے والا ہے۔(مرقات)
|
3704 -[44] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا» وَفِي رِوَايَةٍ: «وَأَبْعَدَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ جَائِرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگوں میں اﷲ کو زیادہ پیارا اور اﷲ سے زیادہ قریب جگہ والا انصاف والا بادشاہ ہے ۱؎ اور قیامت کے دن تمام لوگوں میں اللہ کو زیادہ ناپسند اور بہت سخت عذاب والا اور ایک روایت میں ہے کہ رب سے بہت دور مجلس والا ظالم بادشاہ ہے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۳؎ |
۱؎ قریب جگہ سے مراد عزت اور مرتبہ ہے یعنی دوسرے بادشاہوں کے مقابلہ میں عادل بادشاہ اﷲ تعالٰی سے زیادہ درجہ ومرتبہ والا ہوگا یا عادل بادشاہ انصاف وعدالت کے لحاظ سے زیادہ قرب والا ہوگا لہذا اس فرمان عالی کا مطلب یہ نہیں کہ عادل بادشاہ حضرت صدیق اکبروفاروق اعظم یا دیگر صحابہ کرام سے زیادہ درجہ والا ہوجائے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ آج کل کے بادشاہوں کو عادل کہنا کفر ہے،مرقات کا یہ فتویٰ بالکل درست ہے کہ موجودہ بادشاہوں کا حال سب کو معلوم ہے اور ظلم کو عدل کہنا تمام فقہاء کے نزدیک کفر ہے۔
۲؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا ظالم بادشاہ ظلم کے اعتبار سے غیر ظالم سے کہیں بدتر ہوگا لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ مسلمان ظالم بادشاہ ابوجہل وغیرہ سے بدتر ہو۔خیال رہے کہ ظالم حاکم اﷲ تعالٰی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور رعایا کے حقوق مارتا ہے اس پر حقوق کا زیادہ بوجھ ہے۔
۳؎ یہ حدیث امام احمد نے بھی اپنی موطا میں روایت فرمائی،امام احمد ابن حنبل کے بیٹے نے اپنی کتاب زوائد الدھر میں امام حسن سے مرسلًا نقل فرمایا کہ اﷲ تعالٰی کا پیارا بندہ وہ ہے جو بندوں کا خیرخواہ ہو۔(مرقات)
|
3705 -[45] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ قَالَ كَلِمَةَ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بڑا جہاد اس کا ہے ۱؎ جو ظالم بادشاہوں کے پاس حق بات کہے۲؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع