30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی جو شکار کا شغل اپنا وطیرہ بنالے کہ محض شوقیہ شکار کھیلتا رہے وہ اﷲ کے ذکر،نمازوجماعت جمعہ،رقت قلب سے محروم رہتا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی شکار نہ کیا۔(اشعہ)بعض صحابہ نے شکار کیا ہے مگر شکارکرنا اور ہے اور شکار کا مشغلہ وہ بھی محض شوقیہ کچھ اور شکار کا ذکر تو قرآن کریم میں ہے یہاں مشغلہ شوقیہ کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث حکم قرآن کے خلاف نہیں۔
۳؎ یعنی جو عزت و دولت کمانے کے لیے ظالم بادشاہ کا درباری اور حاضر باش بنا وہ اپنا دین یا دنیا تباہ کرلے گا کیونکہ اگر وہ اس کے ظلم کی حمایت کرے گا تو اپنا دین برباد کرلے گا اور اگر اس کی مخالفت کرے گا تو اپنی دنیا برباد کرلے گا لہذا جو کوئی عادل بادشاہ کا مصاحب بنے اس کے عدل کی حمایت کرنے تک میں دین کا رواج دینے کو اور اسے اچھے مشورے دے تو وہ اعلیٰ درجے کا مجاہد ہے،یوں ہی ظالم بادشاہ کی اصلاح کے لیے اس کے ساتھ رہے تو وہ غازی ہے مگر ایسا بہت مشکل ہے لہذا حضرت علی کو خلفاءراشدین کا مصاحب بننا اور حضرت امام ابو یوسف کا سلطان ہارون رشید کا قاضی القضاۃ بننا گناہ نہ تھا ثواب تھا،امام ابویوسف کی یہ قضاءحنفی مذہب کی اشاعت کا ذریعہ بنی۔
۴؎ اس طرح کہ ہر وقت اس کے ساتھ رہا وہ امید نان اور خوف جان میں مبتلا۔ہوگیا حضرت عطار نے کیا خوب فرمایا۔ ع
قرب سلطاں آتش سوزاں بود
۵؎ اس فرمان عالی کا مقصد بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ ظالم بادشاہ سے قرب رب تعالٰی سے دوری کا ذریعہ ہے اور دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل فرمایا من ازداد علما ولم یزدد فی الدنیا زاھدالم یزدد من اﷲ الا بعدا جو علم بڑھائے دنیا سے بے رغبت نہ ہو وہ اﷲ سے دوری میں ہی اضافہ کرے گا۔
|
3702 -[42] وَعَن المقدامِ بن معْدي كِربَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَفْلَحْتَ يَا قُدَيْمُ إِنْ مُتَّ وَلَمْ تَكُنْ أَمِيرًا وَلَا كَاتبا وَلَا عريفا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے مقدام ابن معدیکرب سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا اے قدیم ۲ تم کامیاب ہوجاؤ گے اگر ایسے مرو کہ نہ حاکم ہو نہ منشی ۳؎ اور نہ سردار ۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ کے حالات بیان ہوچکے کہ آپ صحابی ہیں،۹۱ سال عمر پائی، ۸۷ھ میں وفات پائی۔
۲؎ کندھے پر ہاتھ رکھنا،قدیم تصغیر فرماکر خطاب کرنا کرم و محبت کے لیے ہے۔
۳؎ یعنی سلطان یا حاکم کے منشی۔
۴؎ عریف کے معنے یا تو وہ ہی ہیں جو عرض کیے گئے نمبردار چودھری جو بادشاہ اور رعایا کے درمیان واسطہ ہو یا اس کے معنے مشہور آدمی جسے سب پہنچانیں۔فقہاء فرماتے ہیں خمول رحمت ہے شمول آفت ہے،مولانا برکات فرماتے تھے کہ شریف وہ ہے جو نہ ہمیں پہنچانے نہ ہم اسے پہچانیں حالانکہ آپ والی مکہ تھے۔
|
3703 -[43] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ» : يَعْنِي الَّذِي يَعْشُرُ النَّاسَ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد والدارمي |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت میں ٹیکس وصول کرنے والا نہ جائے گا ۱؎ یعنی جوکہ لوگوں سے عشر لیتا ہے ۲؎(ابوداؤد،دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع