30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3697 -[37] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَمِيرِ عَشرَةٍ إِلا يُؤتى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا حَتَّى يُفَكَّ عَنْهُ الْعَدْلُ أَو يوبقه الْجور» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں ہے کوئی کسی کنبہ کا سردار مگر وہ قیامت کے دن طوق میں لایا جائے گا حتی کہ یا تو اسے انصاف چھوڑ دے یا اسے ظلم ہلاک کردے ۱؎(دارمی) |
۱؎ یہاں سردار سے مراد وہ سردار ہیں جو خواہش نفس کے لیے بخوشی اور بکوشش سردار بنے یعنی ایسے سردار اگرچہ دس آدمیوں کے افسر ہوں مگر قیامت میں طوق بگردن آئیں گے پھر آگے حساب کے بعد یہ طوق اتر جائے یا لازم ہوجائے،عادل تھے رہائی پائیں گے، ظالم تھے تو پکڑ میں آجائیں گے،لہذا یہ حدیث حضرت سلیمان علیہ السلام یا خلفائے راشدین یا یوسف علیہ السلام کے لیے نہیں۔
|
3698 -[38] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ نَوَاصِيَهُمْ مُعَلَّقَةٌ بِالثُّرَيَّا يَتَجَلْجَلُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَرَوَاهُ أَحْمد وَفِي رِوَايَته: «أنَّ ذوائِبَهُم كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ولَمْ يَكُونُوا عُمِّلوا على شَيْء» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خرابی ہے حکام کے لیے خرابی ہے سرداروں کے لیے خرابی ہے امانت داروں کی ۱؎ قومیں آرزو کریں گی قیامت کے دن کہ ان کی پیشانیاں ثریا تارے میں لٹکی ہوتیں،آسمان و زمین کے درمیان ہلتے ہوتے اور انہوں نے سرداری نہ لی ہوتی ۲؎(شرح سنہ،احمد) اور احمد کی روایت میں ہے کہ ان کے گیسو ثریا تارے میں لٹکے ہوتے،آسمان و زمین کے درمیان قلابازیاں کھاتے اورکسی چیز پر حکومت اختیار نہ کرتے۳؎ |
۱؎ امراء سے مراد سلطان و حکام ہیں اور عرفاء عریف کی جمع ہے اس سے مراد وہ چوہدری و نمبردار ہیں جو حاکم و رعایا کے درمیان واسطہ ہوں کہ رعایا کے معاملات حکومت کو پہنچاتے ہوں اور امین سے مراد خزانچی وغیرہ ہیں جو حکومت کی طرف سے ٹیکس،خراج وغیرہ کے نگہبان ہوں،اس میں یتیموں کے والی اور وصی بھی داخل ہیں۔چونکہ ان عہدوں پر پہنچ کر اپنے کو حقوق سے بچانا بہت مشکل ہوتا ہے اس لیے یہ ارشاد ہوا مگر خیال رہے کہ یہاں بھی روئے سخن ان کی طرف ہے جو نفس کے لیے بکوشش یہ عہدے حاصل کریں۔
۲؎ اس جملہ نے شرح فرمادی کہ امراء عرفاء سے وہ ہی مراد ہیں جو کوشش کرکے عیش کے لیے امیر بنیں یعنی ایسے حکام،چوہدری قیامت کا عذاب دیکھ کر آرزو کریں گے کہ ہم کو پیشانی کے بالوں سے آسمان سے لٹکا دیا جاتا ہم وہاں ہچکولے کھاتے یہ اچھا ہوتا اس امارت و وزارت سے،آج ہمیں ایسی ندامت ذلت،رسوائی اور عذاب نہ ہوتے۔اقوام فرماکر اشارۃً فرمادیا کہ سارے بادشاہ سردار یہ تمنا کریں گے بلکہ ان میں سے بعض قومیں یعنی ظالمین یا عیش پرست۔
۳؎ ظالم عیش پرست حکام کا تویہ حال ہوگا مگر عادل سلاطین خلفاء کی یہ عزت ہوگی کہ وہ نور کے منبروں پر ہوں گے رب سے بہت قریب۔ان تمام وعیدوں کا مقصد یہ ہے کہ لوگ حکومت کے طالب نہ بنیں کیونکہ نفس انسانی حکومت و سرداری کا خواہاں ہے۔خیال رہے کہ ملک قوم و دین کو سلطان کی بھی ضرورت ہے حکام کی بھی مگر یہ چیزیں ہیں بہت خطرناک الا من عصمہ اﷲ۔
|
3699 -[39] وَعَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن العرافة حق ولابد لِلنَّاسِ مِنْ عُرَفَاءَ وَلَكِنَّ الْعُرْفَاءَ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے غالب قطان سے ۱؎ وہ ایک صاحب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے ۲؎ راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سرداری حق ہے۳؎ اور لوگوں کو سرداروں کی ضرورت ہے لیکن سردار ہوں گے آگ میں ۴؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع