30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سلب کے لیے ہے لہذا اقساط کے معنے دفع ظلم مقسط بمعنی دفع ظلم کرنے والا یعنی عادل یا قاسط بنا قسوط بمعنی ظلم سے اور مقسط بنا ہے بمعنی انصاف سے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ"۔غرضکہ اس کلمہ میں عجیب خوبی ہے۔
۲؎ منابر جمع ہے منبر کی اور منبر اسم آلہ یا ظرف ہے منبر مصدر کا بمعنی اٹھانا اور چڑھانا،منبر چڑھانے اٹھانے کا آلہ یا اس کی جگہ۔ محشر میں مؤمنوں کے مقامات مختلف ہوں گے کوئی مشک کے ٹیلوں پرکوئی نور کے منبروں پر۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں منبر اپنے حقیقی معنے میں ہے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔
۳؎ داہنا فرمانا صرف سمجھانے کے لیے ہے،بادشاہوں کے ہاں جسے عزت دیتے ہیں اسے سلطان کی داہنی طرف جگہ دیتے ہیں،قرب وعزت کے بیان کے لیے یمین فرمایا گیا اور ظاہری معنے سے براءت کے لیے ارشاد ہوا کہ اﷲ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی کی طرف یمین کی نسبت تو کی جاتی ہے مگر شمال میں بائیں کی نسبت نہیں کی جاتی کہ یمین بنا ہے یمن سے بمعنی برکت،شمال کی نسبت رب کی طرف بے ادبی ہے۔(ازمرقات)
۴؎ حکمہم سے مراد ہے سلطنت و حکومت و قضاء جس کا تعلق عام رعایا سے ہے اور اھلھم سے مراد اپنے بال بچے نوکر چاکر ہیں جن کا تعلق گھر سے ہے اور ماولوا سے مراد وہ یتیم بیوگان وغیرہ ہیں جن کی پرورش اس کے ذمہ آن پڑی ہے۔غرضکہ سیاست مدنی اور تدبیر منزل سب میں عدل و انصاف کرتے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ ماولوا میں خود اپنی ذات بھی داخل ہے یعنی اپنے متعلق بھی انصاف سے کام لیتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے محبوب کی امت کی تین قسمیں فرمائیں:ظالم،مقتصد اور سابق ،سابق وہ ہے جو اپنے اندر عدل و احسان دونوں جمع کرے۔
|
3691 -[31] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عصمَه اللَّهُ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں بھیجا اﷲ نے کوئی نبی اور نہیں خلیفہ بنایا کوئی خلیفہ ۱؎ مگر اس کے دو مشیر ہوئے ایک مشیر تو انہیں بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا مشیر انہیں برائی کا مشورہ دیتا ہے اس کی رغبت دیتا ہے ۲؎ محفوظ وہ جسے اﷲ بچالے ۳؎(بخاری) |
۱؎ یا تو خلیفہ سے مراد حضرات انبیاء کرام ہی ہیں عطف تفسیری،رب تعالٰی نے آدم علیہ السلام کے متعلق فرمایا:"اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرْضِ خَلِیۡفَۃً"اس سے مراد سلطان ہے۔
۲؎ بطانہ لغت میں استر کو کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"بَطَآئِنُہَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ"اس کا مقابل ظہارہ بمعنی ابرہ،اصطلاح میں اندرونی یار،دخیل کار،مشیر خاص کو بطانہ کہا جاتا ہے کہ وہ استر کی طرح اس سے ملا رہتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اچھے اور برے مشیر قدرتی طور پر ہوتے ہیں۔
۳؎ یعنی برے مشیر سے ہم محض اپنی طاقت سے بچ نہیں سکتے ہیں،رب بچائے تو بچ سکتے ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ اچھے مشیر سے مراد فرشتہ ہے اور برے مشیر سے مراد قرین شیطان۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم پر یہ فضل کیا کہ حضور کا قرین مسلمان ہوگیا جیساکہ ترمذی وغیرہ کی روایات میں ہے۔اصطلاح شریعت میں معصوم صرف حضرات انبیاءکرام ہیں اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع