30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بتولے باش و پنہاں شوازیں عصر کہ در آغوش شبیرے بگیری
۴؎ کہ تو نے مولیٰ کے مال میں خیانت تو نہیں کی اور اس کی خیر خواہی کی یا نہیں۔
۵؎ یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ ہرشخص خود اپنے نفس اور اپنے اعضاء کا راعی و ذمہ دار ہے کہ اس سے اپنے اوقات،اپنے حالات،اپنے خیالات،آنکھ ناک کان وغیرہ کا حساب ہوگا کہ کہاں استعمال کیے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ"انسان جوبات بھی منہ سے نکالتاہے اس کی بھی نگرانی ہوتی ہے۔شعر
عقل و ہوش و گوش نعتہائے عرش خرچ کردی وچہ آور دی ز فرش
غرضکہ ہر ایک سے اس کی ذمہ داریوں کو متعلق پُرشش ہوگی،اﷲ تعالٰی ہی ہم گنہگاروں کا بیڑا پار لگائے پردے رکھے لغزشیں معاف کرے۔
|
3686 -[26] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يقولُ:«مَا مِنْ والٍ بلي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» |
روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے کوئی والی جو مسلمان رعیت کا والی بنے ۲؎ پھر ان پر خیانت کرتا ہوا مر جائے ۳؎ مگر اﷲ اس پر جنت حرام فرمادے گا ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ معقل میم کے فتحہ اور عین کے کسرہ سے،آپ شجرہ والے صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے حدیبیہ میں بیعت رضوان کی تھی،بصرہ میں قیام رہا،خواجہ حسن بصری آپ کے شاگرد ہیں۔(اشعہ)امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲؎ یہاں والی سے عام والی مراد ہے سلطان ہویا حاکم،استاذ ہو یا ماں باپ،مسلمان رعایا کا ذکر اتفاقی ہے ورنہ اپنے ماتحت کفار رعایا اور کفار نوکر چاکروں کا بھی حساب ہوگا کہ ان کے شرعی حقوق ادا کیے یا نہیں۔
۳؎ غاش بنا ہے غش سے بمعنی ملاوٹ و کھوٹ،یہاں غاش سے مراد ہے ان کے حقوق نہ ادا کرنے والا اور یا ان پر حق سے زیادہ بوجھ ڈالنے والا۔(مرقات)اس میں بھاری ٹیکس وغیرہ سب داخل ہیں۔
۴؎ لہذا وہ نجات پانے والے مؤمنوں کے ساتھ جنت میں نہ جائے گا اور اگر ان جرموں کو حلال جانتا تھا تو کبھی جنت میں نہ جائے گا یا ایسے ظالم کے متعلق اندیشہ ہے کہ اس کا خاتمہ خراب ہو اور وہ دائمی دوزخی بن جائے،یہاں موت کا ذکر فرماکر یہ بتایا کہ مرتے دم تک توبہ کا اسے موقعہ ہے مگر جیسی خیانت ویسی توبہ۔
|
3687 -[27] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيحَةٍ إِلَّا لَمْ يجد رَائِحَة الْجنَّة» |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے کوئی بندہ جسے اﷲ تعالٰی کسی رعیت کا والی بنائے پھر رعایا کی خیرخواہی سے حفاظت نہ کرے مگر وہ جنت کی خوشبو نہ پائے گا ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ حالانکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی راہ سے محسوس ہوتی ہے،اس جملہ کی بھی وہ ہی شرحیں ہیں جو ابھی اوپر کی حدیث میں جنت حرام ہونے کی گئیں،لہذا یہ حدیث مغفرت و شفاعت کی آیات و احادیث کے خلاف نہیں حضور کے سارے فرمان برحق ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع