30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالیہ کا ذریعہ ہے،یہ حدیث بڑی دلیل ہے کہ نااہل کو حکومت میں دخل دینا نہ چاہیے اگرچہ وہ کتنا ہی متقی ہو اﷲ تعالٰی حکام و سلاطین کو حضرات خلفاءراشدین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق د ے۔
۶؎ یہ روایت بھی مسلم کی ہے۔دیکھنے سے مراد ہے معلوم کرلینا چونکہ حضور کا اندازہ ہمارے عین الیقین سے اعلیٰ ہے اس لیے اراك فرمایا ۔
۷؎ یعنی اگر ہم ضعیف ہوتے تو ہم بھی حکومت و سلطنت اختیار نہ فرماتے،چونکہ ہم کو اﷲ تعالٰی نے قوت و طاقت دی ہے کہ نبوت و حکومت دین و دنیا دونوں کو سنبھال سکتے ہیں اس لیے ہم نے یہ قبول کی،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۸؎ یعنی اے ابوذر عام لوگوں پر حکومت تو بہت مشکل ہے تمہارے لیے تو ضروری ہے کہ تم دو شخصوں کے پنچ بھی نہ بنو بلکہ ایک یتیم کے مال کے متولی بھی نہ بنو کہ اس کی ذمہ داری بھی بہت ہے اور تم تارک الدنیا اﷲ والے ہو۔اس حدیث سے آج کل کے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ممبری وزارت صدارت کے لیے سر پھوڑے مرے جاتے ہیں۔
|
3683 -[23] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللَّهُ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ: «إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ» |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں مَیں اور میرے چچازاد بھائیوں میں سے دو شخص گئے تو ان دونوں میں سے ایک نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم بعض ان چیزوں پر ہم کو حاکم بنائیے جن پر اﷲ نے آپ کو حاکم بنایا ۱؎ اور دوسرے نے بھی اسی طرح کہا تو فرمایا واﷲ ہم اس منصب پر کسی ایسے کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا طلب گار ہواور نہ اس کو جو اس پر حریص ہو۲؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا ہم اپنے عمل پر ایسے کو قائم نہیں کرتے جو اسے چاہے۳؎(مسلم ،بخاری) |
۱؎ یعنی نبوت تو حضور کے لیے خاص ہے کوئی اس کی تمنا کرسکتا ہی نہیں مگر اﷲ نے آپ کو سلطان بنایا ہے تو اپنی ماتحتی میں قاضی،حاکم کسی علاقہ کا امیر ہم کو بنادیجئے۔
۲؎ یہ سوال پورا نہ فرمانا عطاء سے منع نہیں بلکہ ان دونوں حضرات پر اور مخلوق خدا پر رحم و کرم ہے کیونکہ حکومت کے خواہشمند حکومت پاکر ظلم و ستم کرکے اپنا دین بگاڑ لیتے ہیں اور لوگوں کی دنیا برباد کرتے ہیں اس کی شرح پہلے کی جاچکی ہے کہ حکومت کی طلب کب بری ہے اور کب اچھی۔سوال سے مراد ہے منہ سے مانگنا اور حرص سے مراد ہے منہ سے تو نہ مانگنا مگر اس کی کوشش کرنا۔
۳؎ دنیا طلبی نفسانی خواہش کے لیے کیونکہ ایسے آدمی کی اﷲ تعالٰی مدد نہیں کرتا جس سے لوگوں پرظلم کرتا ہے۔
|
3684 -[24] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الْأَمْرِ حَتَّى يقَعَ فِيهِ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم لوگوں میں بہترین شخص اسے پاؤ گے جو اس حکومت سے سخت متنفر ہو حتی کہ اس میں مبتلا ہو جائے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع