دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎  آپ عرفجہ ابن سعد ہیں،آپ سے آپ کے بیٹے طرفہ نے روایات لیں،آپ وہی عرفجہ ہیں جن کی ناک کٹ گئی تھی،جنگ کلاب میں تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا کر لگوائی تھی مگر وہ بدبودار ہوگئی تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو سونے کی ناک لگوا لینے کا حکم دیا،یہ واقعہ مشکوۃ شریف کتاب اللباس باب الخاتم میں آئے گا،آپ سے روایات بہت کم ہیں۔

۲؎ ھنات ھ کے فتح سے ہے جمع ھن کی بمعنی ناقابل ذکر چیزا سی لیے شرمگاہ کو ھن کہتے ہیں کہ وہ بھی ناقابل ذکر ہوتی ہے،یہاں اس سے مراد ناقابل ذکر فتنے فساد شرارتیں ہیں۔مکرر فرمانے سے معلوم ہوا کہ وہ فتنہ مسلسل اور دراز ہوں گے اور بہت سی قسم کے ہوں گے۔

۳؎ خواہ عربی ہو یا عجمی عالم ہو یا جاہل صوفی ہو یا پیر درویش،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اولاد سے ہو یا کسی اور خاندان سے غرضکہ کوئی بھی ہو جب وہ میری امت میں تفریق کی کوشش کرے وہ مستحق قتل ہے۔(مرقات)اس حکم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو نئے مذاہب ایجاد کرکے مسلمانوں کے ٹکڑے کر دینا چاہیں اور جیسے ایک خلیفہ کی اطاعت چاہیے ایسے ہی ایک امام کی تقلید چاہیے۔

3679 -[19]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فاضربوا عنق الآخر» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کسی بادشاہ سے بیعت ۱؎ کرے پھر اسے اپنے ہاتھ کا عقد ۲؎ اور اپنے دل کا میوہ دے دے ۳؎ تو اگر طاقت رکھے اس کی اطاعت کرے ۴؎ پھر اگر دوسرا اس سے جھگڑا کرتا آئے تو دوسرے کی گردن مار دو ۵؎(مسلم)

۱؎ امام سے مراد دنیاوی امام بھی ہوسکتاہےیعنی سلطان اسلام اور دینی امام بھی،جیسے امام مجتہد اور شیخ طریقت، پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں۔

۲؎ صفقۃ بنا ہے صفق سے بمعنی ہاتھ ملانا اسی لیے تالی بجانے کو تصفیق کہتے ہیں کہ اس میں ہاتھ سے ہاتھ ملتا ہے،چونکہ مشائخ یا سلطان کی بیعت کے وقت شیخ یا سلطان کے ہاتھ میں ہاتھ دیا جاتا ہے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے صفقۃ یدہ ارشاد فرمایا،عرف میں جب کسی سے کوئی پختہ وعدہ کرتے ہیں تو ہاتھ ملا کر کرتے ہیں کہتے ہیں آؤ ہاتھ ملاؤ یہ کام ضرور کرنا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَدُ اللہِ فَوْقَ اَیۡدِیۡہِمْ" مگر یہ بیعت مردوں کے لیے ہے عورتوں سے بیعت صرف کلام سے چاہیے۔

۳؎ یعنی دل کا اخلاص اسے دے کہ دل سے اس کی بیعت کرے یا دل کے میوے سے مراد اولاد ہے یعنی اپنے بال بچوں سے بھی اس امام کی بیعت کرائے۔(مرقات)

۴؎ یعنی اس کے ہر جائز حکم کی بھی بقدر طاقت تعمیل کرے۔

۵؎ یعنی اس دوسرے خواہش مند امامت کو خود یہ بیعت کرنے والے لوگ قتل کردیں۔خلاصہ یہ ہے کہ ایک کے ہوکر رہو۔خیال رہے کہ آج کل جس جمہوریت کا رواج ہے کہ ہر پانچ سال کے بعد ملک کا نیا صدر چنا جائے،یہ عیسائیت کی جمہوریت ہے۔اسلام میں جمہوریت کے معنے یہ ہیں کہ ایک بار سلطان لوگوں کی رائے سے چن لیا جائے پھر وہ زندگی بھر سلطان رہے جب تک کہ اس سلطان میں معزولیت کا سبب نہ پیدا ہو تب تک وہ اپنے مقام پر قائم رہے۔چنانچہ حضرات خلفاء راشدین کا چناؤ ایک ایک بار ہوا ہر پانچ سال پر نہ ہوا۔ موجودہ جمہوریت بڑے فسادات کا ذریعہ ہے کہ ہر پانچ سال میں ملک میں زبردست انقلاب آتا ہے،پھر خرابی یہ ہوتی ہے کہ حکام تو وزراء اور صدر کے ماتحت اور صدر اور وزراء ممبران کے ماتحت اور ممبران ووٹروں کے ماتحت لہذا جس کے قبضہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن