دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۴؎ یعنی ان بادشاہوں اور حکام پر شرعًا عدل و انصاف رعایا پروری ادائے حقوق واجب ہے اور رعایا پر ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ان سے ان کی ذمہ داریوں کا سوال ہوگا اورتم سے تمہاری ذمہ داریوں کا حساب ہوگا،اگر وہ اپنے فرائض کی ادا میں کوتاہی کرتے ہیں تو تم اپنے فرائض میں کوتاہی کیوں کرو تم کو اپنی قبر میں سونا ہے ان کو اپنی قبر میں سونا۔علیہم اور علیکم کے مقدم فرمانے سے حصر کا فائدہ حاصل ہوا۔سبحان اﷲ! کیسا ایمان افروز فرمان ہے کہ اپنے حقوق کی فکرکرو دوسروں کی فکر چھوڑو۔

3674 -[14]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا حُجَّةَ لَهُ. وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو فرماں برداری سے ہاتھ نکالے وہ قیامت کے دن اﷲ سے اس حال میں ملے گا اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس طرح مرا کہ اس کے گلے میں بیعت نہیں وہ جاہلیت کی موت مرا ۱؎(مسلم)

۱؎  اس حدیث میں دلیل سے مراد بندے کے ایمان و تقویٰ کی دلیل و ثبوت ہے اور بیعت سے اگر خلیفہ و سلطان اسلام کی بیعت مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب خلیفہ رسول یا سلطان اسلام موجود ہو پھر یہ اس کی بیعت خلافت نہ کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور اگر بیعت سے عام بیعت مراد ہے خواہ بیعت خلافت ہو یا بیعت ارادہ تو حدیث مطلق ہے کہ جو بغیر مرشد پکڑے مرجائے اس کی موت کفار کی سی ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے،یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔خیال رہے کہ بیعت بہت قسم کی ہے:بیعت اسلام،بیعت اطاعت اور بیعت ارادت۔

3675 -[15] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيُّ خَلَفَهُ نبيٌّ وإِنَّه لَا نبيَّ بعدِي وسيكون حلفاء فَيَكْثُرُونَ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بَيْعَةَ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا استرعاهم»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  بنی اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیاء کرام کرتے تھے ۱؎ جب کبھی ایک نبی انتقال فرماتے تو دوسرے نبی ان کے پیچھے تشریف لاتے ۲؎ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۳؎ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے ۴؎ صحابہ نے عرض کیا تو ہم کو کیا حکم فرماتے ہیں ۵؎ فرمایا اگلے پھر اگلے کی بیعت پوری کرو۶؎ اور انہیں ان کا حق دو کیونکہ اﷲ تعالٰی ان سے خود پوچھ لے گا ان کے متعلق جن کو ان کی رعایا بنایا۔(مسلم،بخاری)

۱؎  تسوس بنا ہے سیاست سے بمعنی ملکی و قومی انتظام جس میں دینی انتظام بھی داخل ہے یعنی بنی اسرائیل میں خود حضرات انبیاء کرام سارے قومی ملکی ملی دینی انتظام فرمایا کرتے تھے،ان کے جانشین امراء و خلفاء نہ ہوتے تھے بلکہ حضرات انبیاء کے خلفاء خود انبیاء ہوتے تھے،موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون سے فرمایا تھا اخلفنی من بعدی۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ خلافت اسلامیہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سے شروع ہوئی،اسلامی سلاطین کی بیعت اور حضرات مشائخ کرام کی مریدی اسلام کی خصوصیات سے ہے،پہلے شریعت و ملک کی حفاظت حضرات انبیاءکرام سے ہوتی تھی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن