30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ نمازی رہنے سے مراد ہے مسلمان رہنا کیونکہ نماز ہی کفرواسلام میں فارق ہے لہذا یہ مطلب نہیں کہ بے نمازی بادشاہ حکام کی بغاوت درست ہے دوسرے گناہوں کی طرح ترک نماز بھی ایک گناہ ہے۔قرآن کریم دوزخی کفار کا ایک قول نقل فرماتا ہے جو وہ فرشتوں سے کہیں گے"لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ"ہم نمازیوں میں سے نہ تھے یعنی مسلمان نہ تھے۔خیال رہے کہ سلطان کی بغاوت بڑے فتنوں ،خون ریزیوں،ملک کی تباہیوں کا باعث ہے اس لیے بڑے اہتمام کے ساتھ اس سے روکا گیا۔
۶؎ یہ کلام راوی کی طرف سے حدیث کے اس جملہ من انکر کی تفسیر ہے۔مقصد یہ ہے کہ انکار سے مراد صرف زبان کا انکار نہیں بلکہ دل کی نفرت بھی ضروری ہے کیونکہ دلی کراہت کے بغیر صرف زبانی انکار بیکار ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا کھلا معجزہ ہے کہ جیسا انہوں نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا خود حضرات صحابہ نے فاسق بادشاہ ظالم و بدکار حکام دیکھ لیے۔
|
3672 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَدُّوا إِلَيْهِم حَقهم وسلوا الله حقكم» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا ہم سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم میرے بعد ترجیح دیکھو گے ۱؎ اور ایسی چیزیں دیکھو گے جنہیں تم ناپسند کرو گے عرض کیا تو آپ ہم کو کیا فرماتے ہیں یارسول اﷲ،فرمایا تم ان کے حق انہیں دے دو اور اپنے حق اﷲ سے مانگو۲؎( مسلم،بخاری) |
۱؎ کہ تمہارے حقوق بادشاہ دوسرے کو دیں گے تم کو تمہارے حقوق سے محروم کردیا کریں گے۔
۲؎ یعنی محض اپناحق لینے کے لیے بغاوت نہ کرنا بلکہ ان سلاطین کی جائز اطاعت کیے جانا اور رب تعالٰی سے دعا کیا کرنا کہ خدایا ان کو ہمارے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے۔
|
3673 -[13] وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے فرماتے ہیں سلمہ ابن یزید ۱؎ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا یا نبی اﷲ فرمایئے تو اگر ہم پر ایسے حکام قائم ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق ہم سے روکیں تو حضور ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ۲؎ فرمایا سنو اور اطاعت کرو ۳؎ کیونکہ ان پر وہی ہے جو ان پر ڈالا گیا اور تم پر وہ ہے جو تم پر ڈالا گیا ۴؎(مسلم) |
۱؎ بعض شارحین نے ان کا نام یزید ابن سلمہ کہا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ سلمہ ابن یزید ہیں صحابی ہیں،کوفہ میں قیام پذیر رہے ۔
۲؎ یعنی ایسے بادشاہوں کی ہم بغاوت کریں یا نہیں۔
۳؎ یعنی قولا ً سنو اور عملًا ان کی اطاعت کرو یا ظاہرًا سنو اور باطنًا ان کی اطاعت کرو۔( مرقات)خلاصہ یہ ہے کہ اپنے حقوق کے لیے ملک کو ویران نہ کرو،بغاوت سے ملک کی ویرانی ہوتی ہے،قوم پر اشخاص قربان ہونے چاہیے اور دین پر تن من دھن فدا ہونے لازم ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع