دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ یہاں آئمہ سے مراد والی ہیں خواہ سلطان ہو یا حکام۔(مرقات)مطلب یہ ہے کہ حکام عادل ہوں تم سے مل جل کر رہیں،تمہاری ان کی آپس میں محبت ہو،تمہارے ساتھ نمازوں میں شریک ہوں ایسے حکام اﷲ کی رحمت ہیں جیسے عہد صحابہ میں ہوتا تھا اور بعد میں بھی عادل سلاطین میں رہا۔

۲؎ یعنی ظالم ہوں متکبر ہوں،اپنے عیش و طرب میں رہیں،ملک و رعایا سے لاپرواہ رہیں فساق وفجار ہوں ایسے حکام خدا کا عذاب ہیں۔

۳؎ یعنی کیا ہم ان کو حکومت سے نکال باہر نہ کردیں اور ان سے کی ہوئی بیعت توڑ کر ان سے جنگ نہ کریں۔

۴؎ یعنی جب تک سلاطین و حکام مسلمانوں میں جمعہ وعیدین قائم کریں،مسجدوں کا انتظام کریں،نمازوں کا اہتمام کریں تب تک تم ان کو علیحدہ نہ کرو ان کی بیعت نہ توڑو کیونکہ نمازیں قائم کرنا مؤمن ہونے کی علامت ہے،جو نمازیں قائم کرتا ہے وہ دین کا ضرور خیال رکھے گا،اس میں نماز کی اہمیت کا اظہار ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ"۔

۵؎ اس طرح کہ اگر طاقت ہو تو زبان سے بادشاہ کو نصیحت کرے ورنہ اس کی حرکتوں کو دل سے برا جانے اس کی حمایت نہ کرے۔

۶؎ یعنی سلطان یا حکام کی معصیت کی وجہ سے ان کی بغاوت نہ کرے ان سے لڑے نہیں کہ مسلمانوں کی خون ریزی بڑے سے بڑا گناہ ہے ہاں ان کی معصیتوں کی حمایت نہ کرے۔

3671 -[11]

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقْدَ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا مَا صَلَّوْا لَا مَا صَلَّوْا» أَيْ: مَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ وَأنكر بِقَلْبِه. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم پر کچھ حکام ہوں گے جن کے کچھ کام تم پسندکرو گے کچھ ناپسند کرو گے ۱؎ تو جو انکار کرے تو وہ بری ہوگیا اور جو ناپسند کرے وہ سلامت رہا۲؎ لیکن جو راضی ہوا ان کے ساتھ مل گیا ۳؎ انہوں نے عرض کیا تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ۴؎ فرمایا جب تک نمازی رہیں جب تک وہ نمازی رہیں ۵؎ یعنی جو اپنے دل سے انکار کرے جو اپنے دل سے ناپسند کرے ۶؎(مسلم)

۱؎ اس فرمان عالی میں غیب کی خبرہے۔تعرفون اور تنکرون کا مفعول بہ پوشیدہ ہےیعنی بعض اعمالہم۔ مقصد یہ ہے کہ ان بادشاہوں اور حکام کے اعمال مخلوط ہوں گے کچھ اچھے کچھ برے کہ نماز بھی پڑھیں گے، داڑھی بھی منڈائیں گے،انصاف بھی کریں گے،شراب بھی پئیں گے۔

۲؎ انکار سے مراد زبان سے انکارکردینا ہے اور بری ہونے سے مراد نفاق اور مداہنت یعنی پلپلا پن ہے،کرہ سے مراد دل سے ناپسندیدگی ہے سلامتی ہے مراد گناہ اور وبال فسق سے محفوظ رہنا ہے یعنی ایسے بادشاہوں کے بر ے اعمال کو زبان سے برا کہہ دینے والا پختہ مسلمان ہے اور ان کے اعمال کو صرف دل سے برا سمجھنے والا زبان سے خاموش رہنے والا پہلے کی طرح پختہ تو نہ ہوگا مگر گناہ سے وہ بھی بچ جائے گا۔

۳؎ اس جملہ کی جزا پوشیدہ ہے یعنی جو شخص ان فاسق حکام کے برے کاموں سے دل سے راضی ہوا اور عمل میں ان کے ساتھ شریک ہوگیا کہ وہ بھی ان کے سے کام کرنے لگا تو وہ بھی گناہ فسق و فجوروبال میں انکے ساتھ شریک ہوگیا۔

۴؎ یعنی ان بادشاہوں حاکموں کو ہاتھ سے اور بذریعہ قوت و طاقت گناہوں سے نہ روکیں جو کہ تبلیغ کی اعلی قسم ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن