30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3668 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من رأى أميره يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شبْرًا فَيَمُوت إِلَّا مَاتَ ميتَة جَاهِلِيَّة» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو اپنے حاکم سے ناپسندیدہ چیز دیکھے تو صبر کرے ۱؎ کیونکہ نہیں ہے کوئی جو جماعت سے بالشت بھر الگ رہے پھر مرجائے ۲؎ مگر وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی اگر حاکم یا سلطان میں کوئی شرعی یا طبعی یا اخلاقی نقص دیکھے تو صرف اس وجہ سے اس پر خروج نہ کرے اور اس کے خلاف عَلم بغاوت بلند نہ کرے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ احسن طریقہ سے اس کی اصلاح بھی نہ کرے۔جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہہ دینا تو اعلی درجہ کا جہاد ہے،اصلاح اور چیز ہے خروج کچھ اور۔
۲؎ یعنی جو مسلمانوں کی اس جماعت سے جو کسی سلطان اسلام پر متفق و متحد ہوں تھوڑا سا بھی الگ رہے گا اس کا انجام وہ ہوگا جو آگے مذکور ہے۔
۳؎ یعنی اس کی موت زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی سی موت ہوگی کہ نہ ان کا کوئی سلطان ہوتا تھا نہ جماعت نہ ان میں تنظیم تھی نہ قومی اتفاق۔(مرقات)اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کافر ہوگا۔خیال رہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے یزید پلیدکو سلطان اسلام بنانے کا مسئلہ تھا نہ کہ بنے ہوئے سلطان کی اطاعت کا مسئلہ لہذا اس عالی جناب کی ذات مقدس اس حدیث کی زد میں نہیں آسکتی،جیسے فاسق کو امام نماز بنانا مکروہ و ممنوع ہے مگر جس مسجد میں فاسق آدمی امام بن جائے تو اس کی وجہ سے جماعت نہ چھوڑے اس کے پیچھے پڑھے۔
|
3669 -[9] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ أَوْ يَدْعُو لِعَصَبِيَّةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي بِسَيْفِهِ يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو فرمانبرداری سے نکلا اور جماعت سے جدا ہوا ۱؎ پھر مر گیا تو وہ جہالت کی موت مرا ۲؎ اور جس نے اندھا دھند جھنڈے کے نیچے جنگ کی۳؎ کہ غصہ کرتا ہے تعصب کی بنا پر یا غصہ کرتا ہے تعصب کی طرف یا مدد دیتا ہے عصبیت کی بنا پر ۴؎ پھر وہ مارا گیا تو اس کی موت جاہلیت کی ہے ۵؎ اور جو میری امت پرتلوار لے کر مارتا ہو نیک کار کو بھی بدکار کو بھی ۶؎ اور نہ بچے امت کے مومنوں سے اور نہ پورا کرے عہد والے کے لیے اس کا عہدوپیمان ۷؎ پس وہ نہ مجھ سے ہے نہ میں اس سے۸؎ (مسلم) |
۱؎ اطاعت سے مراد سلطان اسلام کی فرمانبرداری ہے اور جماعت سے مراد جماعت مسلمین ہے،جماعت سے جدا ہونے کے معنے ہیں کہ جس کی حکومت پر مسلمان متفق ہوچکے ہیں اسے حاکم نہ مانے اپنے کو جماعت کے فیصلہ سے الگ رکھے،اس جملہ کے اور معنی بھی ہوسکتے ہیں جو کتاب الاعتصام میں مذکور ہوچکے۔
۲؎ اس کے معنی ابھی عرض کیے گئے کہ اس سے مراد کفر کی موت نہیں ہے بلکہ کفار کی سی موت ہے،کفر کی موت اور کفار کی سی موت میں بڑا فرق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع