30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثواب ہے۔خیال رہے کہ یہاں کشمش سے تشبیہ یا تو چھوٹا ہونے میں ہے یا بال سے صاف گنجا اور پلپلا ہونے میں،اکثر حبشیوں کے سر چھوٹے ہوتے ہیں۔
|
3664 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّمعُ والطاعةُ على المرءِ المسلمِ فِيمَا أحب وأكره مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سننا اور اطاعت کرنا ہر مسلمان آدمی پر لازم ہے ۱؎ ہر اس حکم میں جسے پسند کرے یا ناپسند جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے تو نہ سننا ہے نہ اطاعت ۲؎(مسلم ،بخاری) |
۱؎ بشرطیکہ اس کا حکم خلاف شرع نہ ہو۔
۲؎ یعنی سلطان اسلام کا جائز حکم تمہاری طبیعت کے خلاف ہو یا موافق بہرحال قبول کرو لیکن اگر وہ خلاف شرع حکم کرے تو اس کی فرمانبرداری نہ کی جائے،فرمانبرداری صرف اﷲ رسول کی ہے مگر ایسے احکام مانے بھی نہیں اور اس بنا پر بغاوت بھی نہ کرے،بادشاہ سے جنگ ملک کی تباہی کا باعث ہے۔(مرقات)
|
3665 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوف» |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ گناہ میں کسی کی اطاعت نہیں اطاعت صرف بھلائی میں ہے ۱؎ |
۱؎ یہ فرمان عالی بادشاہ حاکم،پیر،استاد،ماں،باپ وغیرہ سب کو شامل ہے کہ خلاف شرع حکم میں کسی کو اطاعت نہ کی جائے۔معروف وہ کام ہے جسے شریعت منع نہ کرے۔معصیت وہ کام ہے جسے شریعت منع فرمادے،یہ تعریف اچھی طرح یاد رکھی جائے۔(مرقات) آج کل بعض بے وقوفوں نے سمجھ لیا کہ جو کام حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ کیا ہو وہ معصیت ہے یہ محض غلط ہے ورنہ زندگی گزارنا ناممکن ہوجائے گی۔اس کی بحث ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں بدعت کی بحث میں ملاحظہ فرمایئے وہاں اس پر بہت دلائل قائم کیے گئے ہیں۔
|
3666 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیعت کی ۱؎ سننے اور اطاعت کرنے پر تنگی اور آسانی میں خوشی و ناخوشی میں ۲؎ اور ہم پر ترجیح دیئے جانے میں۳؎ اور اس پر کہ کسی چیز میں اس کے اہل ومستحق سے نہ جھگڑیں۴؎ اور اس پر کہ ہم جہاں بھی ہوں حق ہی کہیں اﷲ تعالٰی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والی ملامت سے نہ ڈریں۵؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کسی چیز میں اس کے اہل سے نہ جھگڑیں مگر یہ ہےکہ تم کھلا کفر دیکھو ۶؎ جس کی تمہارے پاس اللہ کی طرف سے قوی دلیل ہو۷؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع