30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ زمانہ جاہلیت میں لوگ نہ امارت سے واقف تھے نہ قضاء سے،ان کے قبیلوں کے رئیس ہوتے تھے،جب اسلام نے یہ محکمے قائم فرمائے تو لوگوں کو تامّل اورتعجب ہوا تب یہ ارشاد فرمایا گیا تاکہ لوگ امارت و قضاء کی اہمیت جانیں۔(مرقات)خیال رہے کہ یہاں امیر کی اطاعت سے مراد جائز احکام میں اطاعت ہے جیساکہ آگے آرہا ہے۔(اشعہ)یہاں امام سے مراد یا تو سلطان اسلام ہے یا اس کا نائب جو جہاد میں سپہ سالار ہو یعنی جہاد کے لیے امیر ضروری ہے اور ملک کے لیے بھی،امیر ڈھال ہے جیسے ڈھال دشمن کے تیروشمشیر سے بچاتی ہے ایسے ہی سلطان رعایا کو داخلی اور خارجی دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ سلطان کو ڈھال کی طرح جنگ میں سب سے آگے رکھو تاکہ پہلا تیر اسی کو لگے۔(لمعات)قتال سے مراد خوارج، باغیوں کفاراور سارے فسادیوں سے جنگ ہے۔
۵؎ عظیم الشان ثواب جو ہمارے بیان بلکہ اندازے سے باہر ہے۔
۶؎ یعنی اگر بادشاہ اسلام خلاف شرع چیزوں کا حکم دے تو اس پر گناہ اور وبال بھی اتنا ہے جو ہمارے بیان و اندازے سے باہر،تمام ملک کا بوجھ اس کی گردن پر ہے،یہاں علیٰ نقصان کے لیے ہے۔
|
3662 -[2] وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطيعُوا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ام الحصین سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر تم پر ناقص الاعضاء غلام حاکم بنادیا جائے جو تم کو اﷲ کی کتاب سے چلائے اس کی سنو اور اطاعت کرو۲؎(مسلم) |
۱؎ آپ ام حصین بنت اسحاق قبیلہ احمس سے ہیں،آپ کے بیٹے یحیی ابن حصین ہیں،آپ صحابیہ ہیں،حجۃ الوداع میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھیں۔
۲؎ یعنی اگر سلطان اسلام کسی حبشی غلام کو تمہارا حاکم بنادے تب بھی تم اس غلام حاکم کی فرمانبرداری کرو کہ یہ سلطان کی اطاعت ہے یا اگر بالفرض حبشی غلام سلطان بن جائے جسے مسلمان چن لیں تو اگرچہ وہ خلیفہ تو نہیں کہ خلافت اسلامیہ صرف قریش سے خاص ہے مگر سلطان تو ہے تب بھی اس کی اطاعت کرو۔(از مرقات)خیال رہے کہ یزید پلید نہ سلطان تھا نہ حاکم بلکہ اس کو سلطان بنانے کا مسئلہ درپیش تھا،حضرت امام حسین نے اسے سلطان بنانے سے انکار کیا لہذا یہ حدیث حضرت امام حسین کے عمل کے خلاف نہیں،بادشاہ بنانا اور ہے بنے ہوئے بادشاہ کی اطاعت کرنا کچھ اور،فاسق کو نماز کا امام نہ بناؤ لیکن اگر بن چکا ہے تو جماعت نہ چھوڑو اس کے پیچھے نماز پڑھ لو۔
|
3663 -[3] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام بنادیا جائے جس کا سرکشمش کی طرح ہوا ۱؎(بخاری) |
۱؎ یہ فرمان عالی مبالغہ کے طور پر ہے یعنی اگر ذلیل و حقیر ناقص الخلقت گنجا غلام بھی تم پر حاکم مقرر ہوجائے تو اس کا حکم بھی قبولیت کے ساتھ سنو اور اس پر عمل کرو،جیسے حدیث پاک میں ہے کہ جو مسجد بنائے اگرچہ چڑیا کے آشیانہ کے برابر ہو اسے بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع