30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ مرقات نے فرمایا کہ ان تمام شرابوں کو خمر فرمانا مجازًا ہے یعنی یہ شرابیں گویا خمر ہی ہیں کہ عقل بگاڑنے بے ہوش و نشہ کردینے میں خمر کا کام کرتی ہے اور ان کے نشہ پر بھی خمر کے نشہ کے احکام جاری ہیں ورنہ خمر صرف شراب انگوری کو کہا جاتا ہے جس کے دلائل پہلے عرض کیے گئے۔خیال رہے کہ ان مذکورہ پانچ چیزوں کا ذکر حصر کے لیے نہیں کیونکہ شراب ان کے علاوہ اور چیزوں کی بھی بنتی ہے،چونکہ عمومًا عرب میں ان ہی پانچ چیزوں کی شراب ہوتی تھی اس لیے ان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا یعنی گیہوں،جَو،چھوارے،کشمش اور شہد۔
|
3648 -[15] وَعَن أبي سعيدٍ الخدريِّ قَالَ: كانَ عندَنا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ فَلَمَّا نَزَلَتِ (الْمَائِدَةُ)سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقُلْتُ: إِنَّه ليَتيمٍ فَقَالَ: «أهْريقوهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی ۱؎ تو جب سورۂ مائدہ اتری ۲؎ تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے متعلق پوچھا اور عرض کردیا کہ وہ شراب یتیم کی ہے ۳؎ فرمایا اسے گرا دو ۴؎(ترمذی) |
۱؎ کہ ہمارے گھر میں ایک یتیم پرورش پاتا تھا جس کا کوئی عزیز فوت ہوا اس کے مالوں کا یہ بچہ وارث ہوا ان مالوں میں شراب بھی تھی،چونکہ اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی اس لیے وہ بھی اس بچہ کو میراث ملی،ابھی اس بچہ کی ملک میں ہی تھی کہ شراب حرام ہوگئی اس کے ضائع کرنے کا حکم صادر ہوگیا۔
۲؎ جس میں آیت کریمہ آئی"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ"اور شراب قطعی حرام کردی گئی اور شراب کو نجس بھی فرمایا گیا اسے شیطانی کام قرار دیا گیا،اس سے بچنے کا حکم دیا گیا۔فاجتنبوہ اس بچنے پر فلاح و کامیابی کو موقوف فرمایا گیا کہ"لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ" اور شراب خوری کو جوئے،بت پرستی،تیروں سے فال کھولنے کی برابر قرار دیا گیا اور ظاہر ہے کہ ایسی خبیث چیز قریب جانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ اسے پینا یا گھر میں رکھنا۔
۳؎ سوال کا مقصد یہ تھا کہ اس شراب کے ضائع کرنے میں یتیم بچہ کا نقصان ہوگا اگر اجازت ہو تو س کا سرکہ بنالیں یا کفار کے ہاتھ فروخت کردیں،پینے کی اجازت مانگنا مقصود نہ تھا لہذا حدیث ظاہر ہے۔
۴؎ یعنی نہ اسے کفار کے ہاتھ فروخت کرو نہ اس کا سرکہ بناؤ بلکہ اسے بہادو کیونکہ یہ مال غیر متقوم ہے مسلمان اس کی تجارت بھی نہیں کرسکتا نہ کسی حیلہ سے اسے استعمال کرسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حرام چیز کو فنا کردینا چاہیے،اگرچہ وہ نابالغ بچہ کی ہوکہ یہ بھی ایک قسم کی عملی تبدیلی ہے اسی لیے ڈھول طبلہ سارنگی وغیرہ حرام آلات کی چوری پر سزا نہیں ان کے توڑنے پر ضمان نہیں کہ یہ چوری نہیں تبلیغ ہے۔
|
3649 -[16] وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي قَالَ: «أَهْرِقِ الْخَمْرَ وَاكْسِرِ الدِّنَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: أَنه سَأَلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ:«أَهْرِقْهَا» . قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خلاًّ؟ قَالَ: «لَا» |
روایت ہے حضرت انس سے وہ حضرت ابو طلحہ سے ۱؎ راوی انہوں نے عرض کیا یا نبی اﷲ میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی جو میری پرورش میں ہیں ۲؎ فرمایا شراب بہا دو مٹکے توڑ دو ۳؎ روایت کیا اسے ترمذی نے اور ضعیف کہا اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ان یتیموں کے بارے میں پوچھا جو شراب کے وارث ہوئے ہیں فرمایا اسے بہادو عرض کیا کہ کیا سرکہ نہ بنالیں فرمایا نہیں۴؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع