30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3644 -[11] وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ عَبْدِ الله بن عَمْرو |
اور نسائی،ابن ماجہ،دارمی نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے روایت کی ۱؎ |
۱؎ یعنی یہ حدیث ترمذی نے تو حضرت عبداﷲ ابن عمر ابن خطاب سے روایت کی اور نسائی ابن ماجہ،دارمی نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے روایت کی۔
|
3645 -[12] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس چیز کی بہت مقدار نشہ دے تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ کیونکہ تھوڑی شراب بہت شراب کا عادی بنادیتی ہے اس لیے تھوڑی سے بھی بچنا لازم ہے،یہ حدیث ظاہر معنی سے امام شافعی وغیرہم کے بھی خلاف ہے کیونکہ ان کے ہاں بھی افیون،چرس،بھنگ،جو دواؤں میں استعمال کی جائے اور نشہ نہ دے تو حرام نہیں، یہاں پتلی اور خشک کی قید نہیں لہذا اس کا وہ ہی مطلب ہے جو فقیر نے عرض کیا کہ خمر یعنی شراب انگوری کا تو ایک قطرہ بھی حرام قطعی ہے اور دوسری شرابوں کا قطرہ بھی حرام ہے جب لذت یا طرب یا لہو کے لیے پئیے یا اس لیے حرام ہے کہ وہ زیادہ پینے کا ذریعہ ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،اس کی بحث ابھی کچھ پہلے گزر چکی ہے وہاں مطالعہ فرمایئے۔
|
3646 -[13] وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أسكرَ مِنْهُ الفرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جس کا ایک فرق نشہ دے اس سے ایک چلو بھی حرام ہے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ فرق مدینہ منورہ کا ایک پیمانہ تھا جس میں سولہ رطل یعنی آٹھ سیر چیز سماتی تھی یہاں مطلقًا زیادتی مراد ہے یعنی جو سولہ رطل ہو تو نشہ دے وہ چلو بھر بھی حرام ہے اگر چہ نشہ نہ دے کہ یہ ذریعہ ہے زیادہ پینے کا یا شراب خوری کی عادت کا جیساکہ پہلی حدیث میں گزرا۔
|
3647 -[14] وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گیہوں سے شراب ہوتی ہے اور جو سے شراب ہوتی ہے اور کھجور سے شراب ہوتی ہے اور کشمکش سے شراب ہوتی ہے اور شہد سے شراب ہوتی ہے،۲؎ (ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ آپ انصاری صحابی ہیں،ہجرت کے بعد انصار میں پہلے آپ ہی پیدا ہوئے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال سات مہینے تھی،کوفہ میں قیام رہا،امیر معاویہ کی طرف سے کوفہ کے حاکم رہے ،پھر حمص کے حاکم ہوئے وہاں ہی آپ کو ۶۴ھ میں قتل کردیا گیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع