30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ کل سے مراد آئندہ زمانہ ہے یہ واقع فتح طائف سے پہلے کا ہے جب طائف پر حملہ ہونا والا تھا اور فتح طائف سے مراد قلعہ طائف کا فتح کرنا ہے۔
۳؎ غیلان طائف کے ایک شخص کا نام تھا اس کی اس بیٹی کا نام بادیہ تھا یہ فتح طائف کے بعد حضرت عبدالرحمان ابن عوف کے نکاح میں آئی۔(اشعہ)
۴؎ یعنی وہ لڑکی اتنی موٹی ہے کہ موٹاپے کی وجہ سے اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں یعنی بلٹیں ہیں جسے عربی میں عکنہ کہتے ہیں جب سامنے آتی ہے تو چاروں بلٹیں پوری نظر آتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو ان چاروں بلٹوں کے دو طرفہ کنارے نظر آتے ہیں ہر سلوٹ و بلٹ کے چار کنارے تو دو کے آٹھ ہوئے عمومًا مرد موٹی عورت کو پسند کرتے ہیں اس لیے وہ مخنث اس کی موٹائی بیان کررہا ہے۔
۵؎ اس حکم سے پہلے خنثوں یعنی ہیجڑوں کا گھروں میں آنا ممنوع نہ تھاکیونکہ یہ عورت کے قابل نہیں ہوتے جیسے بہت چھوٹے لڑکے یا بہت بوڑھے مرد یا خصی یا مجبوب ( ذکر کٹا ہوا)مگر آج پتہ لگا کہ ہیجڑوں کا گھروں میں آنا فساد کا باعث ہے جیسے وہ دوسری عورتوں کا ذکر ہم سے کرتے ہیں ہماری عورتوں کا ذکر دوسروں سے ضرور کریں گے،اس لیے ان کو مسلمانوں کے گھروں سے روک دیا گیا۔فقہا ء فرماتے ہیں کہ خصی مجبوب(ذکر کٹا)بلکہ آوارہ بدمعاش عورتیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں کہ مؤمنہ عورتیں ان سے پردہ کریں ان کا فساد مردوں کے فساد سے بھی زیادہ ہے۔
|
3122 -[25] وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ حَمَلْتُ حَجَرًا ثقيلاً فَبينا أَنَا أَمْشِي سَقَطَ عَنِّي ثَوْبِي فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَخْذَهُ فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ وَلَا تَمْشُوا عُرَاة» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بھاری پتھر اٹھایا تو میرے چلنے کی حالت میں میرا کپڑا اتر گیا میں اسے لے نہ سکا۲؎ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تومجھ سے فرمایا اپنے پر کپڑا لے لو اور ننگے نہ چلو ۳؎(مسلم) |
۱؎ آپ کی کنیت ابوعبدالرحمان ہے،زہری ہیں،قرشی ہیں عبدالرحمن ابن عوف کے بھانجہ ہیں ۲ھ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بقر عید ۸ھ میں ہجرت کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے شہادت عثمان تک مدینہ پاک ہی رہے اس کے بعد مکہ معظمہ چلے گئے، امیر معاویہ کے انتقال کے بعد یزید ابن معاویہ کی بیعت سے انکار کردیا جب یزید نے مکہ معظمہ کا محاصرہ کرکے کعبہ معظمہ پر پتھر برسائے تو آپ کے ایک پتھر لگا اس سے حطیم شریف میں نماز پڑھتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا یہ واقعہ ربیع الاول ۶۴ھ میں ہوا۔
۲؎ یعنی کسی واقعہ پر مجھے پتھر اٹھانا پڑا صرف تہبند بندھا تھا وہ گر گیا جس سے آپ بالکل برہنہ ہوگئے ہاتھ گرے ہوئے تھے،اس لیے آپ تہبند نہ اٹھا سکے۔
۳؎ عراۃ عاری کی جمع ہے اور قاضی کی قضاۃ ناحی کی نحاۃ یہ حکم عام ہے کہ کوئی باہوش شخص اگرچہ بالغ نہ ہو ننگا نہ رہے نہ پھرے ستر ڈھانپنا فرض ہے۔
|
3123 -[26] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا نَظَرْتُ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قطّ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کا ستر کبھی نہ دیکھا ۱؎(ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع