30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3639 -[6] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوَ مُسْكِرٌ هُوَ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ».قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک شخص یمن سے آئے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس شراب کے متعلق پوچھا جو ان کی زمین میں پی جاتی ہے جوار کی ہوتی ہے اسے مزر کہا جاتا ہے ۱؎ تو فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کیا وہ نشہ آور ہے عرض کیا ہاں فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۲؎ بے شک اﷲ کے ذمہ ایک وعدہ ہے ۳؎ اس کے متعلق جو نشہ پئیے۴؎ یہ کہ اسے طینۃ الخبال پلائے لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم طینۃ الخبال کیا چیز ہے فرمایا دوزخیوں کا پسینہ یا دوزخیوں کا کچ لہو ۵؎(مسلم) |
۱؎ سائل سمجھا یہ تھا کہ اسلام میں خمرحرام ہے اورخمر کہتے ہیں انگوری شراب کو اور ہمارے ملک میں انگور کی شراب نہیں ہوتی جوار کی ہوتی ہے شاید وہ حلال ہوگی اس لیے یہ سوال کیا۔
۲؎ یہ ایسا قاعدہ ہے کہ کبھی ٹوٹ نہیں سکتا،جوچیز بھی نشہ دے پتلی ہو جیسے شراب،خشک ہو جیسے افیون،بھنگ، چرس وغیرہ وہ حرام ہے حتی کہ اگر زعفران زیادہ کھانے سے نشہ ہوجائے تو اس کا بھی یہ ہی حکم ہے اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے ۔
۳؎ وعدہ بمعنی وعید ہے۔
۴؎ چونکہ زیادہ تر پتلی چیزیں نشہ کے لیے پی جاتی ہیں،نیز آگے پلانے کا ذکر ہی آرہا ہے اس لیے یشرب فرمایا ورنہ افیون و بھنگ سے نشہ کرنا بھی حرام ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ جو اذان کا جواب نہ دے اس وقت لاپرواہی سے دنیاوی کام میں مشغول رہے اور جو شخص افیون کا عادی ہو اس کے خاتمہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے ان دو چیزوں سے بہت پرہیز کرے۔
۵؎ اس پسینہ یا پیپ و خون کی بدبو،بدمزگی،خرابی بیان نہیں ہوسکتی،سزا جرم کے مطابق ہے اس نے دنیا میں گندی بدمزہ بدبودار چیز پی لہذا اس کے عوض ایسی چیز پلائی گئی۔
|
3640 -[7] وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ. وَقَالَ: «انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَةٍ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوارے اور کچے کھجور کے ملاؤنی سے اور کشمش و چھوہاروں کی ملاؤنی سے اور کچے کھجور اور تر کھجور کی ملاؤنی سے منع فرمایا ۱؎ اور فرمایا کہ ہر ایک کا علیٰحدہ نبیذ بناؤ ۲؎(مسلم) |
۱؎ یعنی ان دو دو چیزوں کو ملاکر پانی میں بھگو کر ان کا شربت(نبیذ)نہ بناؤ کہ ان دو کے ملانے سے نشہ جلد پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک بھی متغیر ہوگیا تو دوسرے کو بھی خراب کردے گا،یہ حکم احتیاطی ہے اگر دونوں کو ملا کر بھگویا گیا اور نشہ پیدا نہ ہوا تو پینا حلال ہے۔
۲؎ امام احمدومالک نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل فرمایا ہے ان کے نزدیک اس مخلوط کا نبیذ حرام ہے نشہ دے یا نہ دے،امام اعظم و شافعی کے ہاں اگر نشہ دے تو حرام ہے ورنہ نہیں۔
|
3641 -[8] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ يُتَّخَذُ خَلًّا؟ فَقَالَ: «لَا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے شراب کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ سرکہ سے بنالی جائے ۱؎ تو فرمایا نہیں ۲؎(مسلم) |
۱؎ اس طرح کہ شراب میں پیاز یا نمک ڈال دیا جائے یا دھوپ میں رکھ دی جائے حتی کہ سرکہ بن جائے۔
۲؎ یعنی شراب کو کسی تدبیر سے سرکہ نہ بناؤ بلکہ اسے پھینک دو۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک اگر شراب سرکہ بنالی گئی تو پاک بھی ہوجائے گی اور حلال بھی،امام احمد کے نزدیک وہ حرام اور ناپاک ہی رہے گی،امام مالک کے نزدیک شراب سرکہ بنانا حرام ہے لیکن اگر بنا لی جائے تو پاک ہوجائے گی،امام شافعی کے نزدیک اگر پیاز یا نمک ڈال کر سرکہ بنائی گئی تو نجس رہے گی اور اگر دھوپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع