30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ امام احمد نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل فرمایا ہے،باقی آئمہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ شخص اس جرم کو حلال سمجھ کر کرلے تو مرتد ہے قتل کیا جائے ورنہ اس کا حکم زنا کا سا ہے کہ محصن ہے تو رجم کیا جائے غیر محصن ہے تو سو کوڑے مارے جائیں،غرضکہ یہ فرمان عالی یا مرتد کے لیے ہے یا دھمکانے کے لیے ۔
|
3633 -[4] وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاحْرُقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم کسی شخص کو پاؤ کہ وہ اﷲ کی راہ میں خیانت کرے ۱؎ تو اس کا سامان جلادو اور اسے مارو ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ اس طرح کہ جہاد میں غنیمت کے مال میں سے تقسیم سے پہلے کچھ لے لے،غلول غنیمت میں خیانت کرنے کو کہتے ہیں۔
۲؎ امام احمد نے اس کے ظاہر پر عمل فرمایا ہے ان کے ہاں اس خائن کا سارا مال جلادیا جائے سوائے قرآن مجید اور جانور اور غنیمت کے چرائے ہوئے مال کے یہ نہ جلائے جائیں،باقی علماء فرماتے ہیں کہ یہ حکم شروع اسلام میں تھا اب منسوخ ہوچکا،امام شافعی فرماتے ہیں کہ اسے مارا ضرورجائے مال نہ جلایا جائے۔خیال رہے کہ اس خیانت میں ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ یہ شرعی چوری نہیں جس مال میں خود اپنا بھی حق ہو اس کی چوری سے ہاتھ نہیں کٹتا کچھ اور بھی شرائط ہیں جن سے ہاتھ کٹتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع