دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

باب التعزیر

غیرمقرر سزا کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  تعزیر بنا ہے عزر سے،عزر کے معنے ہیں عظمت،حقارت،مدد اور منع وروک،اس کا استعمال زیادہ تر بمعنی روک اور منع ہے بلکہ مدد کو بھی عزر اور مدد دینے کو تعزیر اس لیے کہتے ہیں اس سے دشمن کو ایذا رسانی سے روکا جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ"سزا کو تعزیر اسی لیے کہتے ہیں کہ اس سے جرم رکتے ہیں۔شریعت میں تعزیر اس کو کہتے ہیں جو شرعًا مقرر نہ ہو حاکم اپنی رائے سے دے۔خاوند کا بیوی کو،باپ کا بچوں کو،استاد کا شاگردوں کو سزا دینا تعزیز ہی ہے"وَاضْرِبُوۡہُنَّ"فرمایا نبی کریم نے اپنے بچوں سے ڈنڈا قمچی نہ ہٹاؤ،نیز فرماتے ہیں اﷲ تعالٰی اس شخص پر رحمت کرے جو اپنی قمچی سوٹی ٹانگے رکھے کہ بیوی بچے اسے دیکھتے رہیں اور درست رہیں۔(مرقات) حق یہ ہے کہ جن جرموں میں تعزیر کا حکم ہے وہاں ضرور تعزیر دے اور جن جرموں میں اس کا حکم نہیں وہاں تعزیر دینا واجب نہیں۔کسی نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے اجنبی عورت کا بوسہ لے لیا، فرمایا کیا تو نے ہمارے ساتھ باجماعت نماز پڑھی عرض کیا ہاں فرمایا معافی ہوگئی"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"اورتعزیر مجرم کے لحاظ سے دی جائے مجرم سرکش کو تعزیر بھی سخت دے شریف آدمی کو جو اتفاقًا گناہ کر بیٹھا تعزیر معمولی بھی کافی ہے۔

3630 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أبي بردة بن ينار عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حد من حُدُود الله»

روایت ہے حضرت ابوبردہ ابن نیار سے ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتےہیں کہ دس۱۰ کوڑوں سے زیادہ نہ لگائے جائیں مگر اﷲ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی سزا میں ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ آپ حضرت براء ابن عازب کے ماموں ہیں،بیعت عقبہ میں حاضرتھے،بدر اورتمام غزوات میں شریک رہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تمام جنگوں میں حاضر رہے،  ۴۵ھ؁ میں وفات ہوئی۔(اشعہ ومرقات)

۲؎ ہمارے ہاں یہ حدیث منسوخ ہے،امام مالک کے ہاں زمانہ نبوی سے مخصوص ہے۔بہتر یہ ہے کہ حاکم انتالیس کوڑے تک تعزیر لگا سکتا ہے یعنی غلام کی سزاءقذف چالیس کوڑے ہے اس سے کم رکھے،امام ابو یوسف کے نزدیک پچھتر کوڑے تک لگاسکتا ہے یعنی آزاد کی سزا تہمت اسی۸۰ کوڑے ہے اس سے کم رکھے،یہ استحبابی حکم ہے ورنہ اگر ضروری سمجھے تو حد سے زیادہ بھی لگائے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ معن ابن زائدہ کو دھوکا دہی کی سزا میں ایک سو کوڑے لگائے اور قید بھی کیا کچھ روز کے بعد ایک سو کوڑے اور لگائے، کچھ دن بعد ایک سو کوڑے اور لگائے غرضکہ صحابہ کرام کے یہ عمل بتارہے ہیں کہ حدیث منسوخ ہے۔ (مرقات)یہ گفتگو اس صورت میں ہے کہ قاضی جنس حد سے سزا دے اور اگر دوسری جنس سے سزا دے تو تعزیر میں قتل بھی جائز ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن