30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ خزیمہ خ کے پیش ز کے فتحہ سے،آپ انصاری اوسی ہیں،بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے،پھرحضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شریک رہے،جب آپ کو حضرت عمار ابن یاسر کی خبرشہادت پہنچی تو بولے عمار کے بعد زندگی بیکار ہے تلوار نکالی میدان میں گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔(اکمال،اشعہ)
۲؎ لہذا جب زانی کو رجم یا چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو یہ سزا اس کے اس جرم کا کفارہ بن گئی مگر قانون شرعی توڑنے کی توبہ کرنی پڑے گی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس سے توبہ کرائی،ملکی قانون شکنی کی سزا یہ ہی رجم ہے اور رب تعالٰی کو ناراض کرنے کی معافی کے لیے توبہ ہے لہذا حدیث میں تعارض نہیں۔
|
3629 -[5] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَة وَمن أصَاب حد فستره اللَّهُ عليهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت علی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جو سزا کو پہنچا ۱؎ پھر دنیا میں اسے سزا دے دی گئی ۲؎ تو اﷲ تعالٰی اس سے عادل تر ہے کہ اپنے بندے پر آخرت میں سزا مکرر فرمادے ۳؎ اور جو سزا کا مستحق ہوا پھر اﷲ نے اس کی پردہ پوشی فرمالی ۴؎ اور اسے معافی دے دی تو اﷲ کریم تر ہے اس سے کہ اس چیز کو لوٹائے جس سے معافی دے چکا۵؎(ترمذی، ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی اس نے ایسا گناہ کیا جو شرعی حد لازم کرتا ہے جیسے زنا،چوری،شراب خوری،معلول بول کر علت مراد لی گئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ حد سے مراد حرام کام ہو جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوۡہَا"یعنی یہ چیزیں اﷲ کی محرمات ہیں۔(مرقات)
۲؎ یعنی اس پرشرعی حد قائم کردی گئی۔اشعہ نے فرمایا کہ اس میں حدوتعزیر دونوں داخل ہیں۔
۳؎ کہ جب عادل بادشاہ کسی مجرم کو سزا دے کر دوبارہ سزا نہیں دیتے رب تعالٰی تمام عادلوں سے بڑا عادل ہے وہ ان شاءاﷲ آخرت میں اسے سزا نہ دے گا۔خیال رہے کہ یہ عدل ظلم کا مقابل ہے نہ کہ رحم کا لہذا کہہ سکتے ہیں کہ رب تعالٰی ہم پر رحم کرے عدل نہ کرے ورنہ ہم ہلاک ہو جائیں گے۔
۴؎ اس طرح کہ اس جرم پر کسی کو خبردار نہ ہونے دیا اور مجرم کو توبہ مقبول کی توفیق بخش دی لہذا حدیث صاف ہے۔
۵؎ یہ امید افزا کلام اس صورت میں ہے کہ بندہ کی پردہ پوشی ڈھیل دینے کے لیے ہے تو یہ غضب ہے جس کی سزا آخرت میں سخت تر ہے،اگر بندے کو اس پردہ پوشی کے بعد شرمندگی،توبہ کفارہ اداکرنے کی توفیق مل جائے تو ان شاءاﷲ یہ ستر رحمت ہے اور اگر بندہ اس ستر سے غلط فائدہ اٹھائے کہ گناہ پر اور زیادہ دلیر ہوجائے تو یہ ستر غضب ہے اﷲ تعالٰی توفیق خیر دے۔
دستگیرورہنما توفیق دہ جرم بخش و عفوکن بہ کشا گرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع