30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۹؎ اھل قرآن مجید کی اصطلاح میں بیوی کو کہتے ہیں،دیکھو ہماری کتاب فہرست القرآن۔لہذا اس سے بیوی مراد ہے مگر مرقات نے یہاں اھل میں لونڈی کو بھی داخل فرمایا۔
۱۰؎ اس سوال و جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ماعز عرض کردیتے کہ آپ میرے لیے دعا ئے مغفرت فرما دیں تو شاید حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بجائے حد لگانے کے کوئی راہ نکال دیتے۔واﷲ ورسولہ اعلم!
۱۱؎ اس رجم کا واقعہ بالتفصیل پہلےگزرگیا کہ دوران رجم میں ماعز بھاگ گئے تھے صحابہ کرام نے بمشکل رجم کیا تو فرمایا کہ تم نے چھوڑ دیا ہوتا شاید توبہ اس کی رہائی ہوجاتی۔
۱۲؎ اس کلام میں تعجب بھی ہے مردہ کی غیبت بھی اور ماعز کے پر خلوص فعل پر طعنہ بھی،یہ تینوں باتیں ممنوع ہیں۔خیال رہے کہ زندہ کی غیبت سے مردہ کی غیبت زیادہ بری ہے کہ زندہ سے معافی مانگ سکتے ہیں مگر مردہ سے معافی کیسے مانگیں۔
۱۳؎ شاید گفتگو کسی سفر میں ہوئی تھی۔شائل شول سے بنا بمعنی اٹھانا اسی لیے گھڑا اٹھانے والی عورت کو شائلہ کہتے ہیں اور دُم اٹھانے والی اوٹنی کو ناقہ شائلہ کہا جاتا ہے۔شائل پوز کے معنے میں بھی ترمذی شریف میں آیا۔
۱۴؎ اترنے اور کھانے کے دونوں حکم اظہار غضب کے لیے ہیں نہ وجوب کے لیے نہ اباحت کے لیے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حرام گدھے کے کھانے کا حضور نے حکم کیوں دیا۔
۱۵؎ یہ تو حرام بھی ہے مردار بھی اور طبیعت انسانی بھی اس سے نفرت کرتی ہے۔
۱۶؎ کیونکہ گدھا کھانا مجبوری کی حالت میں جائز ہوجاتا ہے جان بچانے کے لیے مگر غیبت کسی حال میں جائز نہیں،نیز بحالت اختیار گدھا کھانا ہلکا گناہ ہے مگر ایسے طیب و طاہر نفس کی غیبت وہ بھی اس کی وفات کے بعد بڑا بھاری گناہ ہے ان وجوہ سے غیبت کو گدھا کھالینے سے سخت تر فرمایا گیا۔
۱۷؎ اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ماعزاسلمی شہیدوں کی طرح قیامت سے پہلے یعنی مرتے ہی روحانی طور پر جنت میں داخل ہوگئے وہاں کی نعمتیں استعمال فرما رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ برزخ کا عذاب و ثواب برحق ہے۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جنت کی نہروں کو بھی ملاحظہ فرمارہے ہیں اور وہاں غوطے لگانے والے حضرت ماعز کو بھی دیکھ رہے ہیں حضور کی نگاہ سے کوئی چیز مخفی نہیں،جب حضور پر جنت جیسی دور کی دنیا پوشیدہ نہیں تو یقینًا حضور سے ہم اور ہمارے حالات بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتے حضور نے ماعز کو دیکھ کر یہ فرمایا،یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت کی نہروں میں جنتی غوطے بھی لگائیں گے مگر لذت کے لیے نہ کہ میل دھونے کو کہ وہاں میل ہے ہی نہیں۔
|
3628 -[4] وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كفارتُه» رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت خزیمہ ابن ثابت سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو گناہ کو پہنچے اس پر اس گناہ کی سزا قائم کردی جائے تو وہ سزا اس کا کفارہ ہے ۲؎ (شرح سنہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع