30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3627 -[3] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ: «أَنِكْتَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا؟» قَالَ: نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ حَلَالًا قَالَ: «فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟» قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ فَسَكَتَ عَنْهُمَا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ برجلِهِ فَقَالَ: «أينَ فلانٌ وفلانٌ؟» فَقَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ» فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: «فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عَرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أنهارِ الجنَّةِ ينغمسُ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ اسلمی ۱؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی ذات پر چار بارگواہی دی کہ انہوں نے ایک عورت سے حرام کیا ۲؎ اس پر ہر دفعہ ان سے حضور منہ پھیرتے رہے۳؎ پانچویں بار میں متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تو نے اس سے صحبت کی ۴؎ بولے ہاں فرمایا حتی کہ تیرا یہ اس عورت کی اس میں غائب ہوگیا ۵؎ بولے ہاں فرمایا جیسے سلائی سرمہ دانی میں ۶؎ اور رسی کنویں میں غائب ہوجاتی ہے ۷؎ بولے ہاں فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ زنا کیا ہے ۸؎ فرمایا ہاں میں نے اس سے وہ کام حرام کیا ہے جو خاوند اپنی بیوی سے حلال کرتا ہے ۹؎ فرمایا تم اس سے چاہتے کیا ہو عرض کیا یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک فرمادیں ۱۰؎ تب آپ نے حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۱۱؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ میں سے دو شخصوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا اسے تو دیکھو جس کی اﷲ نے پردہ پوشی فرمائی تھی مگر اس نے اپنے کو نہ چھوڑا حتی کہ کتے کی سنگساری کی طرح رجم کیا گیا ۱۲؎ حضور انور اولًا دونوں سے خاموش رہے پھر گھڑی بھر چلے حتی کہ مردار گدھے پرگزرے جو ٹانگ اٹھائے تھا۱۳؎ تو فرمایا فلاں فلاں کہاں ہیں وہ بولے یارسول اﷲ ہم یہ ہیں تو فرمایا کہ اترو اور اس مردار گدھے میں سے کھاؤ ۱۴؎ انہوں نے عرض کیا یانبی اﷲ اسے کون کھاتا ہے ۱۵؎ فرمایا کہ تم نے جو اپنے بھائی کی آبرو ریزی ابھی کی وہ اس میں سے کھالینے سے زیادہ بری ہے۱۶؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب جنت کی نہروں میں غوطے لگارہا ہے ۱۷؎(ابوداؤد) |
۱؎ ماعز ابن مالک اسلمی جن کا واقعہ پہلے بار ہا کچھ فرق کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔
۲؎ گواہی سے مراد اقرار ہے کہ یہ اقرار گواہی کے قائم مقام ہے،نیز یہ اقرار چار دفعہ چارجگہ میں تھا جیساکہ پہلے معلوم ہوچکا اور اب بھی آرہا ہے۔
۳؎ اس منہ پھیرنے میں چند حکمتیں تھیں:ایک یہ کہ ماعز آپ کے منہ مبارک کی طرف آئے تاکہ یہ اقرار پچھلے اقرار کی جگہ نہ ہو اس کی جگہ بدلی جائے۔دوسرے یہ کہ شاید اب بھی ماعز اقرار سے باز آجائیں اور سزا سے بچ جائیں زنا کے اقرار میں یہ ضروری ہے مگر ماعز پر تو توفیق الٰہی کا رنگ چڑھا ہوا تھا وہ تو بہرحال پاک ہونے جان فدا کرنے آئے تھے۔
۴؎ نکت کے معنے پہلے بیان ہوچکے کہ یہ نیك سے بنا اجوف یائی باب ضرب یضرب کا ماضی ہے۔عربی میں یہ لفظ اس کام کے لیے صریحی ہے صحبت جماع وطی وغیرہ کنایہ،چونکہ حد میں صریحی اقرار چاہیے اس لیے حضور انور نے یہ لفظ ارشاد فرمایا۔
۵؎ یعنی تیرا آلہ عورت کی فرج میں غائب ہوگیا،مراد حشفہ کا غائب ہونا ہے جس سے غسل فرض ہوجاتا ہے کہ زنا کی سزا کے لیے یہ ہی کافی ہے انزال یا پورا داخل ہونا شرط نہیں۔
۶؎ مرود میم کے کسرہ ر کے جزم واؤ کے فتحہ سے بمعنی سرمہ لگانے کی سلائی۔مکحلہ کحل بمعنی سرمہ کا اسم ظرف یعنی سرمہ دانی نکت کے بعد یہ تشریح زیادہ وضاحت کے لیے ہے۔
۷؎ پہلی مثال کنواری عورت کے لیے ہے دوسری مثال یعنی کنویں میں رسی ثیّبہ عورت کے لیے۔
۸؎ یہ تفصیل دریافت فرمانا وطی بالشبہ سے بچنے کے لیے ہے کہ بعض آدمی وطی بالشبہ کو زنا سمجھ لیتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع