دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

باب مالا یدعی علی المحدود

باب محدود کو بددعا نہ کی جائے ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ما نہیں ہے اور باب کو تنوین ہے جن نسخوں میں ما ہے وہ مصدریہ ہے جس سے لایدعی بمعنی مصدر ہوگیا یعنی سزا یافتہ مجرم کو بد دعا نہ کرنے کا باب۔

3625 -[1]

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أنَّ رجلا اسمُه عبدُ اللَّهِ يُلَقَّبُ حمارا كَانَ يُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تلعنوه فو الله مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ».رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ ایک شخص جس کا نام عبد اﷲ لقب حمار تھا ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہنسایا کرتے تھے ۲؎ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں شراب کے بارے میں کوڑے لگائے تھے ۳؎ انہیں ایک دن لایا گیا حضور نے حکم دیا تو انہیں کوڑے لگائے گئے تو قوم سے ایک شخص بولا خدایا اس پر لعنت کر کتنا زیادہ اسے لایا جاتا ہے ۴؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان پر لعنت نہ کرو ۵؎ خدا کی قسم جہاں تک میں جانتا ہوں یہ اﷲ رسول سے محبت کرتا ہے ۶؎ (بخاری)

۱؎ چونکہ یہ حضرت نہایت سیدھے سادھے سادہ لوح تھے اس لیے لوگ انہیں حمار کہتے تھے وہ اس سے برا بھی نہ مانتے تھے اس لیے یہ لقب اس آیت کے ماتحت نہ آئے گا"وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقٰبِ"اب بھی بعض لوگوں کو بلّا یا شکرہ کہتے ہیں وہ خود بھی اس لقب پر ہنستے ہیں،ہماری اردو زبان میں حمار ذلت کا لفظ ہے لہذا ہم اس کو اس لقب سے نہیں پکار سکتے،چترال میں مہتربادشاہ نواب کو کہتے ہیں لکھنؤ میں بھنگی کو۔شعر

ہندیاں را اصطلاح ہند مدح                     سندھیاں را اصطلاح سندھ مدح

۲؎ یعنی اپنے پر لطف کلام بلکہ کام سے حضور انور کو ہنساتے رہتے تھے شاید اپنا لقب حمار بھی اسی لیے اختیار کیا ہوگا کہ حضور ہنسیں صلی اللہ علیہ و سلم تب تو یہ نام رکھنا اور وہ سارے کام عین عبادت ہوگئے۔جن احادیث میں ہنسانے کی ممانعت ہے وہ ناجائز باتیں کرکے یا کسی کو تکلیف پہنچا کر ہنسانا مراد ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اشعہ میں فرمایا کہ آپ ہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے سبزیاں اور مٹھائیاں لایا کرتے تھےرضی اللہ عنہ۔

۳؎ یعنی انہیں کئی بار یہ سزا دی جاچکی تھی۔(اشعۃ اللمعات)خیال رہے کہ جس گناہ کی توبہ ہوتی رہے نہ وہ کبیرہ بنتا ہے اور نہ فاعل فاسق ہوتا ہے۔

۴؎ یہ قائل سمجھے کہ ان کا بار بار یہ سزا پانا رب تعالٰی کے غضب کی بنا پر ہے انہیں حقیقت حال کی خبر نہ تھی۔رب کی قسم جس گناہ سے توبہ نصیب ہوجائے،شرمندگی حاصل ہوجائے وہ اس عبادت سے افضل ہے جس سے فخروغرور پیدا ہو،حضرت آدم کا گندم کھالینا شیطان کی ساری عبادت سے افضل ہے۔

۵؎ کیونکہ یہ گنہگار ہے غدار نہیں،ملزم ہے باغی نہیں۔بغاوت و غداری بدعقیدگی اور اﷲ رسول کے مقابلہ سے ہوتی ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن