30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3624 -[11] وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ جَلْدَةً فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ وَإِذَا سَكِرَ هَذَى وَإِذَا هذَى افْتَرى فجلدَ عمرُ رَضِي الله عَنهُ فِي حَدِّ الْخَمْرِ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ مَالِكٌ |
روایت ہے حضرت ثور ابن زید دیلمی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے شراب کی سزا کے متعلق مشورہ کیا ۲؎ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے ہے کہ آپ اس کو اسی۸۰ کوڑے لگائیں ۳؎ کیونکہ جب پیئے گا تو نشہ ہوگا اور جب نشہ ہوگا تو بکواس بکے گا اور جب بکواس بکے گا تو جھوٹ گھڑے گا۴؎ چنانچہ حضرت عمر نے شراب کی سزا میں اسی۸۰ کوڑے مارے ۵؎ (مالک) |
۱؎ مشکوۃ شریف کے نسخوں میں دیلمی ہے میم کے ساتھ،دیلم ایک مشہور پہاڑ کا نام ہے مگر موطا امام مالک میں دیلی ہے بغیر میم کے، دیل ایک مشہور قبیلہ ہے،صحیح دیلی ہے بغیر میم کے،یہ تابعی حمصی شامی ہے،اس پر قدریہ ہونے کا شبہ کیا گیا چنانچہ مسلمانوں نے اسے حمص سے نکال کر اس کا گھر جلادیا۔ثور ابن یزید کلاعی اورشخص ہیں جو تابعی ثقہ تھے،ان کی وفات ۵۵ھ میں ہوئی۔(مرقات وغیرہ)
۲؎ کہ کیا شرابی کی سزا چالیس کوڑے رکھی جائے یا زیادہ کی جائے تو کتنی کیونکہ چالیس کوڑوں سے شراب نوشی پوری نہیں رکتی۔
۳؎ یہ مشورہ صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوا اورکسی صحابی نے اعتراض نہ فرمایا سب نے قبول کیا لہذا اس سزا پر صحابہ کا اجماع ہوگیا اور فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہ تم کو میری اور میرے صحابہ خلفاءراشدین کی سنت پر عمل لازم ہے اس لیے تمام آئمہ کے نزدیک شراب کی سزا اسی۸۰ کوڑے مقرر ہے۔
۴؎ یعنی اکثر نشہ والا مستی میں عورتوں کو ایسی گالیاں بھی دے دیتا ہے جو تہمت میں داخل ہیں اور قذف یعنی تہمت کی سزا ازروئے قرآن اسی۸۰ کوڑے ہیں تو جیسے نیند وضو توڑ دیتی ہے کہ وہ سبب ہے ریح نکلنے کی یوں ہی شراب سبب ہے قذف کی لہذا شرابی کو قاذف یعنی تہمت لگانے والا مانا جائے،یہ حضرت امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ہے اور بہت درست اجتہاد ہے۔
۵؎ یعنی امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی مرتضٰی کا یہ مشورہ صرف قولًا ہی قبول نہ کیا بلکہ اس پر عمل بھی شروع فرمادیا کہ شرابی کو اسی۸۰ کوڑے لگانے شروع کردیئے۔خلاصہ یہ ہے کہ عہدنبوی میں شرابی کی سزا مقرر نہ تھی عہد صدیقی میں چالیس کوڑے مقرر ہوئے،پھر عہد فاروقی سے تا قیامت اسی۸۰ کوڑے مقرر ہوگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع