دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

اسی طرح ہر نیک عمل میں رب تعالٰی کی رضا اور حضور کی خوشنودی کی نیت کرنی چاہیے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ"حضور کو ہماری نیکیوں سے خوشی ہوتی ہے۔

۵؎ دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جگہ یعنی اس نے بجائے ملامت کے بددعا کی،بجائے نصیحت کے فضیحت کی۔

۶؎ اس رحمت والے نبی نے اس غموں کے دور کرنے والے رسول نے۔(مرقات)جس کا دامن ستاری ہم سب مجرموں کے لیے پھیلا ہوا ہے۔

۷؎ کیونکہ تمہاری اس بد دعا کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ بار بار شراب پیا کرے اور سزا پایا کرے شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تم تو شیطان کی آرزو پوری ہونے کی دعا کررہے ہو۔

۸؎  یعنی یوں کہو کہ الٰہی اس کی گزشتہ شراب نوشی وغیرہ کو معاف فرما اور آئندہ گناہوں سے بچنے نیک اعمال کرنے کے توفیق دے اس پر رحم فرما۔یا ارحم الراحمین اس صحابی کا صدقہ کہ مجھ سیاہ کار بدکردار احمدیار پر بھی رحمت فرما میری گزشتہ بدکاریوں کو بخش آئندہ نیکیوں کی توفیق دے۔آمین!

3622 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا حَاذَى دَارَ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فضحكَ وَقَالَ: «أفعَلَها؟» وَلم يأمرْ فيهِ بشيءٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی لی نشہ میں ہوگیا تو اسے راستہ میں جھومتے ہوئے پایا گیا ۱؎ تو اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لے کر چلا گیا جب وہ حضرت عباس کے گھر کے سامنے آیا ۲؎ تو وہ چھوٹ گیا تو حضرت عباس پر داخل ہوگیا انہیں لپٹ گیا۳؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو حضور انور ہنس پڑے اور فرمایا اس نے یہ کیا اور اس کے بارے میں کچھ حکم نہ دیا ۴؎ (ابوداؤد)

۱؎ راوی کا شرب فرمانا اپنے گمان کی بنا پر ہے ورنہ اسے شراب پیتے کسی نے نہ دیکھا تھا نہ اس نے شراب پی لینے کا اقرار کیا تھا صرف اس کے جھومنے سے سمجھا گیا کہ اس نے شراب پی ہےلہذاحدیث بالکل واضح ہے۔ فج اس وسیع راستہ کو کہتے ہیں جو دو پہاڑوں کے درمیان ہو،اب ہر وسیع راستہ کو کہنے لگے لہذا  فج خاص ہے اور طریق و صراط سبیل عام یعنی ہم اسے گلی کوچوں سے نہ لائے بلکہ شارع عام سے لائے۔

۲؎ بعض شارحین نے یہاں دھوکا کھایا ہے کہ یہ واقعہ مکہ معظمہ کا ہے کیونکہ حضرت عباس کا گھر لب سڑک مکہ معظمہ میں ہی تھا مدینہ منور ہ میں نہ تھا  بلکہ مدینہ پاک میں ان کا گھر گلی کوچہ میں تھا،مگریہ قول درست نہیں کیونکہ ہجرت سے پہلے شراب حرام نہ تھی،نیز وہاں حکومت اسلامیہ قائم نہ ہوئی تھی کہ مجرم حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں لائے جاتے لہذا حق یہ ہے کہ یہ واقعہ بعد ہجرت کا ہے اور شراب حرام ہوچکنے کے بعد کا ہے ورنہ اسے پکڑا نہ جاتا۔اور حضرت عباس کے گھر کے سامنے آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس گلی کے کنارہ پر پہنچے جہاں حضرت عباس کا گھر ہے،محاذات یعنی مقابلہ اسی کو شا مل ہے۔

۳؎ یعنی بغیر اجازت آپ کے گھر میں گھس گیا اور آپ سے لپٹ گیا کہ مجھے ان سے چھوڑا لو اور سزا سے بچالو،کیوں اس لیے۔مصرع  

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن