30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ضرب اور مارنا ہے،بعض نے میم کے بعد ت مشددہ سے پڑھا،اہل لغت نے یہ لفظ نہیں لیا۔بہرحال اس کے معنی ہیں مارنے کی چیز خواہ تر شاخ ہو یا چھڑی یا دُرّہ یا کوڑا۔(مرقات)ابن وہب اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں انہوں نے کہا عبدالرحمن کی مراد تر شاخ ہے یعنی یہ لفظ آتا ہے تو بہت سے معنی میں مگر یہاں مراد کھجور کی تر شاخ ہے،ابن وہب نہایت ثقہ عالم محدث ہیں ان کی ولادت، ۱۲۵ھ میں ہے،وفات ۱۹۹ھ میں ہے۔(اشعہ)
۵؎ یا تو یہ مٹی اس کی طرف پھینکی یا منہ پر ہی ماری جس سے اس کا منہ گرد آلود ہوگیا،یہ عمل شریف غضب کے لیے ہے یا اس شراب خوری کی بدتری بیان فرمانے کے لیے ہے،پاخانہ وغیرہ نجس چیز ادھر نہ پھینکی تاکہ اس کا جسم نجس نہ ہوجائے،مسلمان خواہ کتنا ہی مجرم ہو مگر اس کے ایمان کا احترام ہے۔
|
3621 -[8] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شربَ الخمرَ فَقَالَ: «اضْرِبُوهُ» فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ ثُمَّ قَالَ: «بَكِّتُوهُ» فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ. قَالَ: " لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ وَلَكِنْ قُولُوا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس وہ شخص لایا گیا جس نے شراب پی لی تھی ۱؎ فرمایا اسے مارو تو ہم میں سے بعض اپنے ہاتھ سے مارنے والے تھے بعض اپنے کپڑے سے اور بعض اپنے جوتے سے ۲؎ پھر فرمایا اسے ملامت کرو ۳؎ تو لوگ اس پر متوجہ ہوکر کہنے لگے تجھے اﷲ سے خوف نہ ہوا تو اﷲ سے نہ ڈرا تو نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے شرم نہ کی ۴؎ بعض قوم نے کہا تجھے اﷲ رسوا کرے ۵؎ فرمایا ۶؎ یوں نہ کہو نہ اس پر شیطان کی مددکرو ۷؎لیکن یوں کہو خدا اسے بخش دے الٰہی اس پر رحم کر ۸؎(ابوداؤد) |
۱؎ شراب انگوری یعنی خمر پی تھی جیساکہ بعض روایات میں لفظ خمر ہے۔(مرقات)
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ نجس جوتے سے نہ مارا ہوگا جس سے اس کا جسم نجس ہوجائے،جوتے سے مارنا اظہار غضب اور اظہار ذلت کے لیے ہے کہ یہ فعل بہت ذلیل ہے۔
۳؎ یعنی اسے زبان سے برا بھلا کہو یہ حکم استحبابی ہے اور پہلا حکم اضربوہ وجوبی تھا کیونکہ شرابی کو مار کی سزا دینا واجب ہے زبان سے ملامت کرنا مستحب۔سبحان اﷲ! خود برا نہیں کہتے لوگوں کو اس کا حکم دیتے ہیں،خود تو معافی کی دعائیں دیتے ہیں ہم جیسے مجرم بھی ان کے کرم میں ہیں۔
۴؎ معلوم ہوا کہ مسلمان کو ہر گناہ میں اﷲ تعالٰی کے خوف کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے شرم بھی چاہیے کہ حضور ہمارے اعمال پر خبردار ہیں ہمارے گناہوں کو حضور دیکھ رہے ہیں اﷲ تعالٰی فرماتاہے: "وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے کیا خوب فرمایا۔شعر
دن لَہْو میں کھونا تجھے شب نیند بھر سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع