30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کا ایک قول یہ ہے کہ اقرار زنا کی طرح چوری کے اقرار میں بھی بار بار اقرار کرایا جائے اور اگر یہ چور بھی اقرار کے بعد رجوع کرلے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا دیگر اماموں یعنی امام اعظم امام مالک امام محمد بلکہ خود امام شافعی کے ایک قول میں صرف ایک اقرار پر ہاتھ کٹے گا،امام احمدوامام ابویوسف کے نزدیک صرف اقرار سے ہاتھ نہیں کٹتا،امام اعظم وغیرہم کی دلیل وہ حدیث ہے جو طحاوی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ حضور انور نے صرف ایک اقرار پر ہاتھ کٹوایا۔اس حدیث میں جو تعدد کا ذکر ہے وہ چوری کے معنے تحقیق کے لیے ہے کہ کبھی چور غلطی سے خیانت وغیرہ کو چوری سمجھ رہا ہو۔واﷲ اعلم!(مرقات)
۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کاٹنے کے بعد چور سے توبہ بھی کرائی جائے کیونکہ ہاتھ کٹ جانا تو شرعی جرم کا کفارہ ہوا اﷲ تعالٰی کی نافرمانی کی معافی توبہ سے ہوگی۔
۶؎ یعنی ان کتب میں یہ حدیث ابو امیہ سے مروی ہے نہ کہ ابو رمثہ سے۔خیال رہے کہ جامع اصول السنہ امام ابن اثیر کی مشہور کتاب ہے۔
|
3613 -[4] وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ بِالرَّاءِ والثاء الْمُثَلَّثَة بدل الْهمزَة وَالْيَاء |
بروایت ابو امیہ اور مصابیح کے نسخوں میں ابو رمثہ سے ہے رے اور تین نقطی ث سے بجائے ہمزہ اور ی کے ۱؎ |
۱؎ یہ باب تیسری فصل سے خالی ہے۔خیال رہے کہ اس پر تو تمام اماموں کا اتفاق ہے کہ چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے جب کہ چوری کے تمام شرائط پائے جائیں،اس میں اختلاف ہے کہ چور سے مال کا تاوان بھی لیا جائے گایا نہیں ،ہمارا مذہب یہ ہے کہ اگر مسروقہ مال چور کے پاس موجود ہے تو مالک کو دلوا دیا جائےگا اور اگر مال اس کے پاس سے جاتا رہا یا اس نے خرچ یا ضائع کردیا تو ضمان واجب نہیں صرف ہاتھ کاٹنا سزا کافی ہے،دوسرے اماموں کے ہاں مال کا تاوان بھی دلوایا جائے گا،ہماری دلیل وہ حدیث ہے جو نسائی نے بروایت عبدالرحمن ابن عوف نقل کی کہ جب چوری والے پر حد قائم کردی جائے تو اس پر تاوان نہیں اور دار قطنی کے یہ الفاظ ہیں لاغرم علی السارق بعد قطع یمینہٖ اور بزاز نے روایت کی لایضمن السارق سرقۃ بعد اقامۃ الحد رب تعالٰی فرماتاہے:"السَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا"ما کسبا میں ما عام ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹ دینا اس کے سارے جرموں کی سزا ہے چوری کی بھی اور مال ضائع کرنے کی بھی۔(مرقات و ہدایہ و کتب اصول)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع