30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ ردغۃ الخبال ر کے فتحہ،دال کے سکون اور خ اور ب کے فتحہ سے کچا پیپ جسے اردو میں کچلہو کہتے ہیں۔اس سے مراد دوزخ کا وہ مقام ہے جہاں دوزخیوں کا پیپ و خون جمع ہوتا ہے۔
۴؎ یعنی دنیا میں جتنے روز تک یہ مسلمان بھائی کو عیب لگاتا رہا اتنے روز تک جہنم کے اس طبقہ میں رکھا جائے گا کہ وہاں رہے گا اور یہ کچلہو ہی پیئے گا۔اﷲ کی پناہ!
۵؎ یہ فرمان عالی پہلے فرمان سے زیادہ سخت ہے کہ وہاں باطل پر جھگڑے کا ذکر تھا اور یہاں جس کے متعلق حق ہونے کا یقین نہ ہو باطل ہونے کا شبہ ہو اس میں جھگڑے والے کی مدد کرنے پر وعید ہے یعنی اگر کوئی شخصی کسی مسئلہ یا کسی چیز پر دوسرے سے جھگڑ رہا ہے تم کو یہ پتہ نہ چلا کہ یہ حق پر ہے یا باطل پر تم نے اس کی اندھا دھند مدد کی تو تم بھی غضب الٰہی میں آگئے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو محض قومیت پر دوسروں سے لڑتے ہیں،اپنے ہم قوم کی جھوٹ و ظلم پر مدد کرتے ہیں،نیز وہ بیرسٹرو وکیل عبرت پکڑیں جو کچھ روپیہ کے لیے ظلم کی حمایت وکالت کرتے ہیں۔
|
3612 -[3] وَعَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ» . قَالَ: بَلَى فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَعْتَرِفُ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ وَجِيءَ بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ» فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ تُبْ عليهِ» ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ هَكَذَا وجدتُ فِي الْأُصُول الْأَرْبَعَة وجامع الْأُصُول وَشُعَبُ الْإِيمَانِ وَمَعَالِمُ السُّنَنِ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ |
روایت ہے حضرت ابو امیہ مخزومی ۱؎ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے صریحی اقرار کر لیا تھا اور اس کے پاس سامان پایا نہ گیا ۲؎ تو اس سے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں تیرے متعلق خیال نہیں کرتا کہ تو نے چوری کی ۳؎ ہو وہ بولا ہاں حضور نے دو یا تین بار اس سے فرمایا وہ ہر بار اقرار ہی کرتا رہا تو حکم دیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۴؎ اور اسے لایا گیا تو اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ سے معافی مانگ اور توبہ کر،بولا میں اﷲ سے معافی مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین بار فرمایا الٰہی اس کی توبہ قبول فرمالے ۵؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ، دارمی)میں نے چاروں اصول اور جامع اصول شعب الایمان اور معالم السنن میں یوں ہی پایا ۶؎ |
۱؎ آپ صحابی ہیں،آپ کا نام معلوم نہ ہوسکا صرف کنیت میں مشہور ہیں،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،آپ سے ابوذر غفاری مولیٰ ابو المنذر نے روایت کی رضی اللہ عنہم۔(مرقات واشعہ)
۲؎ لُص لام کے پیش یا کسرہ سے ص کے شد سے یعنی ایک ایسا شخص آپ کی خدمت میں صحابہ کرام لائے جس کی چوری پر کوئی گواہ نہ تھا نہ چوری کی علامت یعنی مسروقہ مال اس کے پاس تھا لوگوں کے سامنے اس نے چوری کا اقرار کرلیا تھا اس بنا پر اسے بارگاہ عالی میں حاضر کیا گیا۔
۳؎ اخال ہمزہ کے کسرہ سے ہے،اصل میں اخال ہمزہ کے فتحہ سے تھا،خال یخال خیال سے بنا سمع یسمع سے یعنی ہم کو تیرے متعلق یہ خیال نہیں کہ تو نے چوری کی ہو تجھے دھوکا لگا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع