دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎ تاکہ لوگ عبرت پکڑیں اور آئندہ کوئی چوری کی جرأت نہ کرے دیگر اماموں کے ہاں لٹکانا سنت ہے ہر چور کا ہاتھ کاٹ کر کٹا ہوا ہاتھ ہار کی طرح گلے میں پہنایا جائے،ہمارے امام صاحب کے ہاں سنت نہیں بلکہ جائز ہے اگر حاکم مناسب سمجھے تو کرے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر چور کا ہاتھ گلے میں نہ ڈالا صرف اس کا ڈالا۔

3606 -[17]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَرَقَ الْمَمْلُوكُ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو ۱؎ اگرچہ بیس درہم میں ہو ۲؎ (ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)۳؎

۱؎ ا س سے معلوم ہوا کہ غلام اپنے آقا کے گھر سے کچھ چرائے تو اس کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ غلام کو گھر میں آنے جانے کی اجازت ہوتی ہے لہذا اس کے لیے آقا کے گھر کا مال محفوظ نہ رہا جیسے خاوند بیوی ایک دوسرے کا مال چرائیں یا مہمان اپنے مہمان کی جگہ سے کچھ چرالے تو ہاتھ نہیں کٹتا کیونکہ ان کے حق میں یہ مال محفوظ نہیں۔

۲؎ نُش چالیس درہم کا ہوتا ہے لہذا آدھا نش بیس درہم کا ہوا یعنی کتنا ہی سستا بیچنا پڑے بیچ دو،یہ حکم بطور مشورہ ہے اور جس کے ہاتھ فروخت کرے اسے اس عیب پر مطلع کردے،ممکن ہے کہ وہ کسی تدبیر سے اس غلام کی چوری چھڑا دے۔

۳؎ نیز یہ حدیث امام بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3607 -[18]

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَهُ فَقَالُوا: مَا كُنَّا نَرَاكَ تَبْلُغُ بِهِ هَذَا قَالَ: «لَوْ كانتْ فاطمةُ لقطعتَها» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ایک چور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا حضور نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا لوگوں نے عرض کیا حضور ہم گمان نہ کرتے تھے کہ یہ یہاں تک پہنچ جائے گا ۱؎ فرمایا اگر فاطمہ ہوتیں تو میں ان کے ہاتھ کاٹ دیتا ۲؎(نسائی)

۱؎ یعنی ہم حضور عالی کے متعلق یہ گمان نہ کرتے تھے کہ اسے اتنی سخت سزا دیں گے بلکہ ہمارا خیال تھا کہ رحم خسروانہ فرما کر اسے معمولی جھڑک فرمائیں گے،وہ حضرات سمجھے تھے کہ شرعی سزائیں معاف ہوسکتی ہیں۔

۲؎ کیونکہ مجرم پر رحم یہ ہی ہے کہ اسے پوری سزا دے دی جائے کسی کی کسی طرح رعایت نہ کی جائے کہ اس سے ملک میں امان قائم رہتی ہے اور یہ سزائیں حق اللہ ہیں کسی کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتے۔لو کان وہ قضیہ شرطیہ ہے جس کا مقدم اور تالی دونوں ناممکن ہیں اس سیدہ کا نام لے کر یہ بتانا منظور ہے کہ شرعی سزا میں کسی بڑے سے بڑے درجے والے کی بھی رعایت نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَاۡخُذْکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ

3608 -[19]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بِغُلَامٍ لَهُ فَقَالَ: اقْطَعْ يَدَهُ فَإِنَّهُ سرقَ مرآةَ لأمرأتي فَقَالَ عمَرُ رَضِي اللَّهُ عَنهُ: لَا قَطْعَ عَلَيْهِ وَهُوَ خَادِمُكُمْ أَخَذَ مَتَاعَكُمْ. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر کے پاس اپنا غلام لایا عرض کیا اس کا ہاتھ کاٹ دیجئے کہ اس نے میری بیوی کا آئینہ چرایا ۱؎ تو حضرت عمر نے فرمایا اس پر قطع نہیں ۲؎ کہ وہ تمہارا خاوند ہے جس نے تمہارا سامان لے لیا ۳؎ (مالک)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن