دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ اس حدیث پر کسی امام کا عمل نہیں،کوئی فقیہ چور کے قتل کا حکم نہیں دیتا لہذا یا تو حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے کہ کسی مسلمان کا خون سوائے تین وجہوں کے حلال نہیں:ارتداد،زنا بعد احصان،قصاص،یا یہ چور مرتد ہوگیا تھا یا یہ فسادی یعنی ڈاکوؤں سے مل گیا تھا ان کی امداد کرتا تھا تو سیاسۃً اسے قتل کرادیا گیا،ظاہر یہ ہی ہے کہ وہ مرتد ہوگیا تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہورہا ہے۔

۲؎ یعنی ہم نے اس پر نہ نماز جنازہ پڑھی نہ دفن کیا۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ وہ مرتد ہوچکا تھا چوری کو حلال سمجھتا تھا ورنہ فاسق مسلمان کی نماز جنازہ ضروری ہے،یہاں مرقات نے بحوالہ فتح القدیر ایک عجیب حدیث نقل کی،حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور انو رصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک چور لایا گیا فرمایا اسے قتل کردو،پھر عرض کیا گیا حضور اس نے چوری کی ہے فرمایا ہاتھ کاٹ دو،چنانچہ ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر دوبارہ چوری کے جرم میں لایا گیا فرمایا قتل کردو پھر عرض کیا گیا حضور اس نے چوری کی ہے فرمایا پاؤں کاٹ دو،تیسری چوتھی بار بھی یہ ہی ہوا آخر کار پانچویں بار میں اسے قتل کردیا گیا۔نسائی نے بروایت حارث ابن حاطب نقل فرمایا کہ اس شخص نے پانچویں چوری عہد صدیقی میں کی تب صدیق اکبر نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے انجام سے خبردار تھے اس لیے پہلی بار میں فرمایا تھا کہ اسے قتل کردو،یہ حدیث طبرانی سے حاکم نے مستدرک میں نقل فرمائی اور کہا صحیح الاسناد ہے۔     ؎                      تمہارے منہ سے جو نکلی وہ بات ہو کے رہی۔مرقات نے اس جگہ چوری کے عجیب واقعات بیان فرمائے۔

3604 -[15]

وَرُوِيَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ فِي قَطْعِ السَّارِقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْطَعُوهُ ثمَّ احسموه»

اور شرح سنہ میں چور کے قطع کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کی گئی اس کے ہاتھ کاٹ دو پھر جھلسادو ۱؎

۱؎ احسموا حسمٌ سے بنا بمعنی داغ دینا یا جھلسانا،یہ جھلسانا اس لیے ہے تاکہ جسم کا تمام خون نہ نکل جائے اور چورکی موت واقع نہ ہوجائے۔حسم کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ لوہا آگ میں سرخ کرکے زخم پر لگادیا جائے۔دوسرے یہ کہ زیتون یا کوئی اور تیل کھولا کر ہاتھ تل دیا جائے،یہ جھلسنا بعض اماموں کے ہاں مستحب ہے،ہمارے ہاں واجب ہے کہ اس میں چور کی جان بچانی ہے،اس کا خرچ دیگر اماموں کے ہاں بیت المال کے ذمہ ہے،ہمارے ہاں خود چور کے ذمہ کہ تیل اور آگ کے لیے ایندھن چور سے منگوایا جائے گا کیونکہ یہ جھلسانا چور کے اپنے نفع کے لیے ہے۔(مرقات)

3605 -[16]

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بسارقٍ فقُطِعَتْ يَدَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تو وہ اس کے ہاتھ میں لٹکادیا گیا پھر اس کا حکم دیا گیا تو اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ آپ انصاری ہیں بنی عمرو ابن عوف سے ہیں،جنگ احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل ہوئے،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے، جب امیر معاویہ جنگ صفین کے لیے گئے تو ان کی جگہ دمشق کے نائب خلیفہ رہے، ۵۳ھ؁ میں دمشق میں انتقال ہوا وہاں ہی دفن ہوئے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن