30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3598 -[9] وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَ سَارِقٌ وَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَخَذَهُ صَفْوَانُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلا قبل أَن تَأتِينِي بِهِ» |
اور شرح سنہ میں روایت ہے کہ صفوان ابن امیہ ۱؎ مدینہ منورہ آئے مسجد میں سو گئے اور تکیہ اپنی چادر کا بنا لیا ۲؎ ایک چور آیا اس نےآپ کی چادر لے لی اور اسے صفوان نے پکڑ لیا پھر اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے حضور نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۳؎ تو صفوان بولے کہ میں نے یہ نہ چاہا تھا یہ اس پرصدقہ ہے ۴؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ کیا ہوتا ۵؎ |
۱؎ آپ صفوان ابن امیہ ابن خلف جحمی قرشی ہیں،فتح مکہ کے دن آپ مکہ معظمہ سے بھاگ گئے تھے پھر عمیر ابن وہب نےآپ کے لیے حضور سے امان حاصل کی حضور نے عمیر کو اپنی چادر عطا فرمائی اور فرمایا کہ یہ چادر امان کی علامت ہے پھر انکو حضورکی بارگاہ میں لایا گیا،پھر غزوہ طائف میں ایمان لائے اور ان کا اسلام قبول ہوا،حضور نے ان کو بہت عطاؤں سے نوازا۔
۲؎ یعنی چادر اپنے سر کے نیچے رکھ کر سو گئے۔اس سے معلوم ہوا کہ حفاظت مال دو قسم کی ہے:جگہ سے حفاظت اور محافظ سے حفاظت لہذا مسجد جنگل یا راستہ میں اگر مال کے پاس محافظ ہے تو وہ مال محفوظ ہے اس کی چوری سے ہاتھ کٹے گا۔
۳؎ یا اس لیے کہ اس نے چوری کا اقرار کرلیا تھا یا اس لیے کہ اس کی چوری کا یہ واقعہ گواہوں سے ثابت ہوگیا تھا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صرف یہ الزام قطع کے لیے کافی نہیں۔
۴؎ یعنی مجھے یہ خبر نہ تھی کہ اس معمولی سی چادر چرانے پر بھی ہاتھ کٹ جائے گا میں اس کے ہاتھ کٹوانے کے لیے اسے نہ لایا تھا صرف ڈانٹ ڈپٹ اور تعزیر کے لیے لایا تھا میں یہ چادر اس کو دیتا ہوں فی سبیل اﷲ لہذا اب یہ اس کا مالک ہے پھر ہاتھ نہ کٹوایا جائے۔
۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ چوری کا معاملہ حاکم کے پیش ہونے سے پہلے حق العبد ہوتا ہے اگر مال والا معاف کردے اور مقدمہ حاکم کے پیش نہ کرے تو ہاتھ نہ کٹے گا لیکن حاکم کے ہاں مقدمہ پیش ہوجانے پر حق اﷲ بن جاتا ہے کہ کسی کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا،یہ ہی قول ہے امام زفر و امام شافعی و احمد کا۔
|
3599 -[10] وَرَوَى نَحْوَهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن صَفْوَان عَن أَبِيه 3600 -[11] والدارمي عَن ابْن عَبَّاس |
اور اسی کی مثل ابن ماجہ نے عبداﷲ ابن صفوان سے انہوں نے ان کے والد سے روایت کی۔ اور دارمی نے ابن عباس سے۔ |
|
3601 -[12] وَعَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: «فِي السّفر» بدل «الْغَزْو» |
روایت ہے حضرت بسر ابن ارطات سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا ۱؎ کہ جہاد میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں ۲؎ (ترمذی،دارمی،ابوداؤد،نسائی)مگر ان دونوں نے بجائے جہاد کے سفر فرمایا ۳؎ |
۱؎ بسر ابن ارطات کا نام عمر عامری ہے،کنیت ابوعبدالرحمن ہے،قرشی ہیں۔حق یہ ہے کہ آپ صحابی نہیں تابعین میں سے ہیں کیونکہ آپ کی پیدائش حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے دو سال قبل ہے آخر میں دیوانہ ہوگئے تھے،امیر معاویہ یا عبدالملک کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی،بعض شامی علماء نےآپ کا سماع ثابت کیا ہے شاید صاحب مشکوۃ کی یہ روایت شامیوں کے قول پر مبنی ہے کہ فرمارہے ہیں سمعت میں نے حضور سے سنا۔(اشعہ،مرقات،ابن عبدالبر اور مغنی نے بھی آپ کی سماعت کا انکار کیا ہے)
۲؎ اس فرمان عالی کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ بحالت جہاد جب لشکر اسلام کفار کے ملک میں ہو اگر کوئی چوری کرے تو وہاں اس کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں یا تو اس لیے کہ وہاں لشکر میں حاکم اسلام موجود نہیں اور شرعی سزائیں حاکم اسلام ہی دے سکتا ہے لشکر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع