30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ نہبۃ غنیمت کو بھی کہتے ہیں اور کسی کا مال علانیہ زبردستی چھین لینے کو بھی کہتے ہیں،یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی علانیہ زبردستی مال چھین لینے والے کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ ہاتھ کٹتا ہے چوری سے اور چوری میں خفیہ لینا ضروری ہے یا جو غازی غنیمت کے مال میں تقسیم سے پہلے چوری کرے اس کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ اس غنیمت میں چور کا بھی حصہ ہے اور جس مال میں چور کا بھی حصہ ہو اس کی چوری سے ہاتھ نہیں کٹتا لہذا ان دو توجیہوں پر اس سے دو مسئلے حاصل ہوں گے۔(اشعہ)
۲؎ یعنی جو ظالم کھلے بندوں لوگوں کا مال چھین لے اور لوگ منہ تکتے رہ جائیں ایسا ظالم ہمارے طریقہ ہماری جماعت سے خارج ہے،اسلام سے نکل جانا مراد نہیں کہ یہ جرم فساد عمل ہے فساد عقیدہ نہیں۔خیال رہے کہ ڈاکو کے ہاتھ نہ کٹیں گے بلکہ ڈکیتی کی سزائیں مختلف ہیں بعض صورتوں میں اس کو سولی دی جائے گی۔
|
3597 -[8] وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ وَلَا مُنْتَهِبٍ وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي |
روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا خیانت کرنے والےا ورلٹیرے اور اچکّے پر ہاتھ کٹنا نہیں ۱؎ (ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی) |
۱؎ خائن وہ جو کسی کی امانت مارے خواہ اس طرح کہ کسی کی چیز عاریۃً مانگ کر لے جائے بعد میں جھوٹ کہہ دے کہ کھو گئی یا عاریۃً کا انکار کردے یا اس طرح کہ کوئی اس کے پاس بطور ودیعت مال رکھے اور یہ ہضم کرے امین کا مقابل۔منتہب وہ جو علانیہ جبرًا کسی کا مال چھین لے اور مختلس وہ جو کسی کے ہاتھ سے جلدی سے اچک کر چیز لے کر چلتا بنے ان تینوں کے ہاتھ نہ کٹیں گے۔خائن چونکہ ایسا مال لیتا ہے جو مالک کی حفاظت میں نہیں بلکہ خود اس کی اپنی حفاظت میں ہے اس لیے یہ مال اس کے حق میں غیرمحفوظ ہے لہذا یہ کام چوری نہ بنا اور لٹیرے یا اچکے کا ہاتھ کٹے گا کہ اگرچہ اس نے مال محفوظ تو کرلیا مگر خفیہ نہ لیا بہرحال یہ تینوں سارق یعنی چور نہیں لہذا ان کی سزا یہ نہ ہوگی،چاروں اماموں کا یہ ہی مذہب ہے البتہ اسحاق ابن راھویہ کا قول ہے کہ خائن کا ہاتھ کٹے گا کیونکہ مسلم و بخاری نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی،مدینہ منورہ میں ایک عورت عاریۃً چیز لے کر انکار کر دیتی تھی،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا ہاتھ کٹوادیا مگر ائمہ اربعہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کا ہاتھ اس خیانت سے نہ کٹا بلکہ اس نے ایک بار چوری بھی کرلی پھر کٹا،حضرت ام المؤمنین نے یہاں اس عورت کا وصف مشہور بیان فرمایا ہے،وجہ قطع بیان نہ فرمائی اور اگر خیانت سے ہاتھ کٹوایا گیا تو یہ حدیث اس کی ناسخ ہے وہ عورت یا تو فاطمہ بنت اسود ابن عبدالاسود تھی یا عمیرہ بنت سفیان ابن الاسود تھی۔(مرقات)
|
3598 -[9] وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَ سَارِقٌ وَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَخَذَهُ صَفْوَانُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلا قبل أَن تَأتِينِي بِهِ» |
اور شرح سنہ میں روایت ہے کہ صفوان ابن امیہ ۱؎ مدینہ منورہ آئے مسجد میں سو گئے اور تکیہ اپنی چادر کا بنا لیا ۲؎ ایک چور آیا اس نےآپ کی چادر لے لی اور اسے صفوان نے پکڑ لیا پھر اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے حضور نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۳؎ تو صفوان بولے کہ میں نے یہ نہ چاہا تھا یہ اس پرصدقہ ہے ۴؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ کیا ہوتا ۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع