30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاہیے کہ ایسے باغ کے درختوں میں لگے ہوئے پھلوں کی چوری سے بھی ہاتھ کٹ جائے گا حالانکہ حدیث شریف نے معلق پھل کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کی مطلقًا ممانعت کردی لہذا امام اعظم کا قول نہایت قوی ہے کہ معلق پھل کی چوری میں ہاتھ نہ کٹنے کی وجہ اس پھل کا جلد بگڑ جانا ہے نہ کہ غیر محفوظ ہونا۔
|
3595 -[6] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ معلَّقٍ وَلَا فِي حَرِيسَةِ جَبَلٍ فَإِذَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَالْجَرِينُ فَالْقَطْعُ قيمًا بلغ ثمن الْمِجَن» . رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عبدالرحمان ابن ابی حسین مکی سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہ تو درخت میں لٹکے ہوئے پھل میں ہاتھ کٹتا ہے اور نہ پہاڑ کے جانوروں میں ۲؎ پھر جب اسے طویلہ۳؎ اور کھلیان میں جگہ دیدے تو اتنے میں ہاتھ کٹتا ہے جو ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۴؎(مالک)۵؎ |
۱؎ آپ قرشی نوفلی ہیں یعنی نوفل ابن عبدمناف کی اولاد سے تابعی ہیں ثقہ ہیں۔
۲؎ کیونکہ پہاڑ محفوظ جگہ نہیں لہذا یہاں سے بکری وغیرہ چرانے میں قطع نہیں اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ جو کوئی اونٹوں کی قطار سے ایک دو اونٹ چرالے تو قطع نہیں کہ یہ اونٹ محفوظ جگہ میں نہیں لیکن اگر اونٹ پر لدی ہوئی بوریوں میں سے غلہ وغیرہ چرا لیا تو ہاتھ کٹے گا کہ بوری دانہ کے لیے محل حفاظت ہے۔
۳؎ مراح میم کے پیش سے وہ جگہ جہاں اونٹ گائے وغیرہ باندھے جاتے ہیں یعنی طویلہ،بکریوں کے بندھنے کی جگہ کو حربیہ۔
۴؎ یعنی جو جانور طویلہ میں محفوظ کردیا جائے اور جو پھل درخت سے ٹوٹ کر کھلیان میں رکھ دیا جائے پھر اس جانور یا اس خشک پھل کی قیمت دس درہم ہو اس کی چوری میں چور کے ہاتھ کٹیں گے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک جنگل میں جو اونٹوں کی قطار جارہی ہے جس کے آگے یا پیچھے ایک محافظ ہے اس قطار میں سے اونٹ کی چوری سے ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ یہ شخص صرف اس اونٹ کا محافظ ہے جس پر سوار ہے یا جس کی نکیل پکڑ ے چل رہا ہے یا جس کو پیچھے سے ہانک رہا ہے باقی کا محافظ نہیں وہ سب غیر محفوظ ہیں،باقی اماموں کے ہاں جہاں تک اونٹوں کو دیکھ رہا ہے وہاں تک کے اونٹ محفوظ ہیں کہ انکی چوری سے ہاتھ کٹے گا،نیز احناف کے نزدیک پھلوں کے جرین میں آجانے کے معنے یہ ہیں کہ وہ خشک ہوکر چھوارے یا کشمش بن جائیں،چونکہ اب وہ جلد نہ بگڑیں گے لہذا انکی چوری سے ہاتھ کٹے گا۔دوسرے اماموں کے نزدیک جرین میں پہنچ جانے کے یہ معنی ہیں کہ وہ محفوظ ہو جائیں لہذا اگرچہ وہ تر پھل رہیں ان کی چوری سے ہاتھ کٹ جائے گا،مذہب حنفی قوی ہے کہ سرکار فرماتے ہیں لا قطع فی ثمر ولا کثر پھل جرین میں پہنچ کر بھی ثمر رہتا ہے پھر اس میں ہاتھ کٹوانا اس حدیث کے خلاف ہے۔
۵؎ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ عبداﷲ ابن عبدالرحمن تابعی ہیں انہوں نے صحابی کا ذکر نہ فرمایا اور مرسل حدیث امام ابوحنیفہ کے ہاں مقبول ہے،شوافع کے ہاں ناقابل قبول لہذا شوافع اس حدیث سے دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
|
3596 -[7] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے لٹیرے پر ہاتھ کٹنا نہیں ۱؎ اور جو ظاہر ظہور لوٹ کرے وہ ہم سے نہیں ۲؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع