30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کھجور کی چربی جو درخت کے اوپر کے حصہ سے سفید رنگ کا نکلتا ہے کھایا بھی جاتا ہے یعنی ان دونوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹتا، حاکم چاہے تو تعزیرًا کچھ سزا دے دے مگر احناف کے نزدیک ثمر سے مراد ہر وہ پھل ہے جو جلد خراب ہوجائے یوں ہی کثر لہذا جلد بگڑجانے والے پھلوں کی چوری میں قطع نہیں خواہ درخت میں لگا ہویا توڑ لیا گیا ہو اور خواہ باغ و درخت محفوظ ہو یا چار دیواری سے گھرا ہو یا غیرمحفوظ۔
۲؎ اس حدیث کو احمد ابن حبان نے بھی نقل فرمایا۔اس حدیث کی بنا پر امام اعظم قدس سرہ فرماتے ہیں جلد بگڑجانے والے پھلوں کی چوری میں ہاتھ نہ کٹیں گے محفوظ ہوں یا غیر محفوظ،اسی طرح دودھ گوشت وغیرہ بگڑ جانے والی چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہ کٹیں گے،امام شافعی کے ہاں اگر درخت غیر محفوظ ہے جیسے کھلے باغ تو ان کے پھلوں کی چوری میں قطع نہیں اور اگر باغ کے اردگرد دیوار ہے دروازہ محفوظ ہے تو اس کی پھل کی چوری سے ہاتھ کٹ جائے گا۔خیال رہے کہ پرندوں اور مرغی کی چوری میں بھی قطع نہیں۔چنانچہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز کی خدمت میں ایک چور لایا گیا جس نے کسی کی مرغی چوری کی تھی،آپ نے حضرت سائب ابن یزید رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام نے پرندوں کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا،چنانچہ اس کے ہاتھ نہ کاٹے گئے۔(مرقات)
|
3594 -[5] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَالَ: «مَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينَ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور انور سے درخت میں لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ جو کھلیان میں جگہ دینے کے بعد ۱؎ اسے چرائے پھر وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس پر ہاتھ کٹنا ہے۲؎(ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ جرین باغ میں وہ جگہ ہے جہاں باغبان پھل توڑ کر جمع کرتے رہتے ہیں پھر وہاں سے بازار یا اپنے گھر لے جاتے ہیں جیسے دانہ کے لیے کھلیان۔
۲؎ یعنی جب تک پھل درخت پر رہے غیرمحفوظ ہے لہذا اس کی چوری میں قطع نہیں اور جب توڑکر یہاں خزانہ میں رکھ لیے گئے محفوظ ہوگئے اب ان کی چوری میں ہاتھ کٹے گا،یہ حدیث امام ابویوسف اور امام شافعی کی دلیل ہے کہ خراب ہوجانے والے پھل اگر محفوظ ہوگئے ہوں تو ان کی چوری میں قطع ہے بشرطیکہ نصاب کے قدر کی چوری ہو یعنی امام شا فعی کے ہاں تین درہم کی قیمت اور امام یوسف کے ہاں درس درہم قیمت کا مال،امام اعظم جرین میں جگہ دینے سے مراد لیتے ہیں خشک چھوارے جو خراب نہیں ہوتے ان کی چوری میں قطع ہے اس لیے کہ ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں بروایت جریر ابن حازم عن الحسن البصری روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ان لا اقطع فی الطعام اور طعام سے مراد جلد بگڑ جانے والی چیزیں ہیں جیسے گوشت،دودھ،سبزمیوے کیونکہ گندم وغیرہ کی چوری میں اجماعًا قطع ہے۔غرضکہ جرین میں قطع ہونے کی وجہ امام شافعی کے ہاں حفاظت ہے اور امام اعظم کے ہاں کھجور کا خشک ہوکر پائیدار ہوجانا ہے،امام اعظم کی دلیل قوی ہے کہ ابھی حدیث میں گزرچکا لاقطع فی ثمر و لاکثر،نیز اگر باغ چار دیواری سے گھرا ہو اور دروازہ باغ بند ہو یا باغ میں مالک باغ موجود ہو تو درخت محفوظ ہے اس کے پھل محفوظ،تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع