30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۵؎ یعنی عبداﷲ ابن انیس حاضر ہوئے۔آپ انصاری ہیں،مدنی عقبی ہیں،غزوہ احد میں شریک ہوئے۔
۱۶؎ یعنی اگر سزا نہ بھی پاتے اور خود ہی توبہ قبول کرلیتے ممکن تھا کہ ان کی مغفرت ہوجاتی۔لعل سے معلوم ہوا کہ زنا کی سزا بفضلہ تعالٰی یقینی کفارہ ہے صرف توبہ میں بخشش کی امید ہے یقینی نہیں۔مرقات میں ہے کہ پھر غامدیہ عورت نے بھی چار بار اقرار زنا کیا اور وہ بھی رجم کردی گئی۔
|
3582 -[28] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الزِّنَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرِّشَا إِلَّا أخذُوا بِالرُّعْبِ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن العاص سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے کوئی قوم جس میں زنا پھیل جائے مگر وہ قحط سالی سے پکڑے جاتے ہیں ۱؎ اور نہیں ہے کوئی قوم جس میں رشوت عام ہوجائے۲؎ مگر وہ مرعوبیت سے پکڑے جاتے ہیں۳؎(احمد) |
۱؎ یعنی جب قوم میں زنا پھیل جائے کہ لوگ عمومًا کرنے لگیں تو قحط پھیلے گا خواہ اس طرح کہ بارش بند ہوجائے اور پیداوار نہ ہو یا اس طرح کی پیداوار تو ہو مگر کھانا نصیب نہ ہو،دوسری قسم کا قحط سخت عذاب ہے جیسا کہ آج کل دیکھا جارہا ہے کہ پیداوار بہت ہے مگر قحط و گرانی کی حد ہوگئی،یہ آج کل کی حرامکاری کا نتیجہ ہے۔
۲؎ رشا کے لغوی معنی ہیں رسی،چونکہ رسی کنویں سے پانی نکالنے کا ذریعہ ہے اس لیے اس وسیلہ کو بھی رشا کہتے ہیں جو غلط فیصلہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے یعنی رشوت۔رشوت یا مال ہو یا کچھ اور چیز کہ رشوت دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی حرام،انصاف حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا جائز ہے مگر لینا حرام ہے یعنی اگر حاکم بغیر رشوت لیے انصاف نہیں کرتا اور فریادی برحق ہے تو وہ رشوت دے کر اپنے لیے حق فیصلہ کراسکتا ہے مگر لینے والا حاکم حرام خور اور مجرم ہے اس کا فرض تھا کہ بغیر رشوت لیے انصاف کرتا۔
۳؎ یعنی رشوت لینے والا شخص مرعوب ہوتا ہے اور رشوت لینے والی قوم پر دوسری قوم کی ہیبت طاری ہوجاتی ہے جیسا کہ آج ہم لوگ کفار سے مرعوب ہیں۔
|
3583 -[29] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ» . رَوَاهُ رَزِينٌ |
روایت ہے حضرت ابن عباس و ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ نے فرمایا لعنتی ہے وہ جو قوم لوط کا سا کام کرے ۱؎(رزین) |
۱؎ یعنی لڑکوں سے حرامکاری کرے۔ملعون سے مراد ہے اﷲ تعالٰی فرشتوں،انسانوں کا پھٹکارا ہوا۔خیال رہے کہ مرد سے بدکاری حرام قطعی ہے اس کا حلال جاننے والا کافر ہے کہ قرآن کریم میں اس کی حرمت صراحۃً مذکور ہے اسی بنا پر قوم لوط پر سخت عذاب آیا۔ جامع صغیر میں ہے کہ ملعون ہے وہ جو اپنے باپ کو گالی دے،لعنتی ہے وہ جو اپنی ماں کو گالی دے،لعنتی ہے جو غیر اﷲ کے نام پر ذبح کرے،لعنتی ہے وہ جو جانور سے بدکاری کرے لعنتی ہے وہ جو راستے کے نشانات مٹائے۔(مرقات)
|
3584 -[30] وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عليَّاً رَضِي الله عَنهُ أحرَقَهما وَأَبا بكرٍ هدم عَلَيْهِمَا حَائِطا |
اسی کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے ہے کہ حضرت علی نے ان دونوں کو جلایا اور ابوبکر صدیق نے ان دونوں پر دیوار گرائی ۱؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع