دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ عن ابیہ میں باپ سے مراد نعیم ہیں اور یہاں ابی میں باپ سے مراد ہزال ہیں یعنی حضرت ماعز لاوارث یتیم تھے تو انہیں ہزال نے خدا ترسی سے پال لیا۔

۲؎ یعنی محلہ کی لڑکی سے زنا کیا،بعض شارحین نے فرمایا ہے کہ وہ لڑکی خود ہزال کی لونڈی تھی۔

۳؎  اور حضور کی بارگاہ میں جاکر رب کے حضور توبہ کرو جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔اس سے پتہ لگا کہ حضرات صحابہ حضور کو مشکل کشا جانتے تھے،آپ کے آستانہ کو رب تعالٰی کا دروازہ سمجھتے تھے اسی لیے رب تعالٰی کے گناہ کرنے پر حضور کے دروازہ پر بھیجتے تھے کیوں نہ سمجھتے کہ خود رب تعالٰی نے فرمایا:"وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ"الایہ اور بنی اسرائیل سے فرمایا: "ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡاحِطَّۃٌ"۔

۴؎ یعنی انہیں یہ امید نہ تھی کہ ان پر حد شرعی جاری ہوگی وہ سمجھے کہ زنا کی سزا اسے دی جاتی ہے جس کا زنا گواہی سے ثابت ہوا قراری مجرم سے توبہ کرائی جاتی ہے اس زنا پر گواہ نہ تھے۔

۵؎ کتاب اﷲ سے مراد اﷲ تعالٰی کا حکم ہے جو بندوں پر لکھا جاچکا ہے قرآن کریم مراد نہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہی ہو اور اس وقت تک رجم کی سزا کی آیت قرآن کریم میں موجود تھی،اس کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی۔

۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ ماعز مجلس مبارک سے چلے گئے تھے غائب ہوگئے تھے پھر واپس آئے۔

۷؎ حاکم عورت کا سوال اس لیے کرے کہ کبھی بعض کم عقل لوگ اپنی بیوی سے بحالت حیض صحبت کرلینے کو زنا سمجھ جاتے ہیں یا وطی بالشبہ کو زنا کہہ دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہر حرام صحبت زنا ہے حالانکہ یہ غلط ہے لہذا اس سوال پر یہ شبہ نہیں کہ عورت کا راز کیوں فاش کرایا،نیز یہاں حد قذف لگنے کا احتمال نہیں کیونکہ رجم کے بعد حد قذف کیسی۔

۸؎ یہاں مباشرت سے مراد صحبت کرنا ہے نہ کہ فقط جسم چھونا کیونکہ یہ تمام سوالات تو پہلے ہوچکے ہیں۔

 ۹؎ معلوم ہوا کہ اقرار زنا کے لیے لفظ ہاں کہہ دینا بھی کافی ہے۔

۱۰؎ اخرج بذات خود متعدی ہے اور بہ کی ب زائدہ ہے جس سے اخرج کے متعدی ہونے کی تائید مقصود ہے جیسے قرآنی آیت تَنۡۢبُتُ بِالدُّہۡنِ کی ب۔(مرقات)حرہ بیرون مدینہ کی پتھریلی زمین کا نام ہے۔معلوم ہوا کہ رجم شہر سے باہر ہونا اچھا ہے۔حق یہ ہے کہ آپ کو مصلے یعنی عیدگاہ کی طرف لے جایا گیا وہاں سے بحالت رجم بھاگ کر حرہ میں پہنچ گئے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں مصلے لے جانے کا ذکر ہے۔

۱۱؎ رجم گاہ کے علاقہ سے نکل گئے۔

۱۲؎ عبداﷲ ابن انیس کے ساتھی جو رجم کررہے تھے یا ماعز کے ساتھی جو رجم میں شریک تھے وہ عاجز آچکے تھے پکڑ نہ سکتے تھے۔

۱۳؎ وظیف لغت میں گھوڑے یا اونٹ کی ہاتھ یا پاؤں کی لمبی ہڈی ہے۔(قاموس)اور مغرب میں ہے کہ وظیف بغیر اونٹ کی پنڈلی کی ہڈی یعنی انہوں نے یہ ہڈی لاٹھی کی طرح نہ ماری بلکہ پتھر کی طرح پھینک کر ماری اس لیے رماہ فرمایا لہذا رجم کے معنے بالکل درست ہیں۔

۱۴؎  یہاں قتل سے مراد جان نکال دینا ہے نہ کہ عرفی قتل کہ وہ تو دھار دار آلہ سے ہوتا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن