30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس جملہ میں من سے مراد ہر مجرم ہے شادی شدہ ہو یا کنوارا اور پانے سے مراد صرف دیکھنا نہیں بلکہ جاننا ہے یعنی جس شخص کا اغلام ثابت ہوجائے۔اغلام ثابت ہونے کے لیے دو گواہ یا ایک بار اقرار کافی ہوگا دوسرے جرموں کی طرح کیونکہ یہ زنا نہیں اس کی سزا زنا کی سی ہے۔خیال رہے کہ یہاں لڑکے سے بدکاری مراد ہے،اجنبی عورت سے دبر میں بدفعلی کرنے کا حکم یہ نہیں کیونکہ یہ عمل قوم لوط نہیں،اپنی بیوی سے دبر میں وطی حرام ہے مگر اس پر بھی یہ سزا نہیں۔(ازمرقات مع الزیادۃ)
۲؎ خیال رہے کہ امام اعظم کے نزدیک لواطت میں حد نہیں بلکہ تعزیر ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالی بطور تعزیر قتل کے لیے ہے،صاحبین اور امام شافعی کے ہاں لواطت کا حکم زنا کا سا ہے کہ فاعل اگر محصن ہے تو رجم کیا جائے گا اور اگر غیرمحصن ہے تو سو کوڑے کھائے گا،امام مالک و احمد کے نزدیک بہرحال رجم کیا جائے گا محصن ہویا غیر محصن مگر امام اعظم کا قول بہت قوی ہے کیونکہ یہاں سزا قتل تجویز فرمائی گئی،زنا کی سزا قتل نہیں،نیز یہاں قتل کو عام فرمایا گیا خواہ تلوار سے ہو یا اونچے مکان سے گرا کر یا اس پر دیوار گراکر اسی لیے حضرات صحابہ کرام کا عمل لوطی کے قتل میں مختلف رہا۔اس اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعًا سزا مقرر نہیں اور حد میں شرعی تقرر ضروری ہے،بہرحال قول امام اعظم بہت ہی قوی ہے خود یہ حدیث تائید کررہی ہے،نیز یہ فاقتلوا جانور سے بد فعلی کے لیے بھی آیا ہے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے مگر تمام کا اتفاق ہے کہ جانور سے بدفعلی کرنے میں حد نہیں تعزیر ہے تو یہاں بھی تعزیر ہی چاہیے کہ فرمان کے الفاظ عالیہ یکساں ہیں۔
|
3576 -[22] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ» . قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئا وَلَكِن أره كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا أَوْ يُنْتَفَعَ بِهَا وَقَدْ فُعِلَ بِهَا ذَلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو چوپائے سے صحبت کرے تو اسے قتل کردو۲؎ اور جانور کو بھی اس کے ساتھ قتل کردو۳؎ ابن عباس سے کہا گیا کہ جانور کا کیا قصورہے ۴؎ فرمایا میں نے اس بارے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ سنا لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ حضور نے یہ ناپسند فرمایا کہ اس کا گوشت کھایا جائے یا اس سے نفع اٹھایا جائے حالانکہ اس کے ساتھ یہ حرکت کی جاچکی ہے ۵؎ (ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ مشکوٰۃ شریف کے بعض نسخوں میں یوں ہے وعنہ عن ابن عباس یعنی روایت ہے حضرت عکرمہ وہ حضرت ابن عباس سے راوی مگر ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔(مرقات)
۲؎ تمام آئمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ فرمان عالی بطور تعزیر ہے قتل اس کی حد شرعی نہیں،پھر اس میں گفتگو ہے کہ قتل سے یہاں کیا مراد ہے بعض نے فرمایا سخت مار پیٹ،بعض نے فرمایا جان نکال دینا خواہ تلوار سے ہو یا اونچے مکان سے گرا کریا اس پر دیوار ڈھاکر۔(لمعات،مرقات و اشعہ)
۳؎ حق یہ ہے کہ یہ حکم ہر جانور کے لیے خواہ حلال ہو جیسے بکری گائے وغیرہ یا حرام ہو جیسے کتیا گدھی وغیرہ بہرحال اسے بھی قتل کردیا جائے،قتل فرمانے میں اشارہ اس طرف ہے کہ اسے ذبح نہ کیا جائے کہ جانور کا ذبح صرف کھانے کے لیے ہوتا ہے ا سے کھانے نہیں صرف مار کر جلا دینا یا دفن کردینا ہے یہ جانور کا قتل یا اس لیے ہے تاکہ اس سے مخلوط بچہ نہ پیدا ہوجائے جو آدمی اور جانور کی مخلوط شکل رکھتا ہو تاکہ اس کی بقا سے اس فعل کا چرچہ نہ ہو اور اس کی بدنامی نہ ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع