30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ تجلل بنا ہے جلٌ سے بمعنی جھول یعنی وہ مرد جھول کی طرح اس کو لپٹ گیا جیسا گھوڑے پر جھول پڑجاتی ہے کہ عورت اس سے چھوٹ نہ سکی۔
۳؎ یعنی اس سے زنا کرلیا۔خیال رہے کہ تمام صحابہ معصوم یا محفوظ نہیں بلکہ عادل یا مستور ہیں۔عادل وہ جو گناہ اگرچہ کرے مگر اس پر قائم نہ رہے،فاسق وہ جو علانیہ گناہ کبیرہ کرے یا گناہ صغیرہ کا عادی ہوجائے۔مستور وہ جس کا گناہ ظاہر نہ ہو،مستور فاسق نہیں ہوتا لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں کہ تم تمام صحابہ کو عادل کہتے ہو،حالانکہ ان میں سے بعض سے ایسے گناہ سرزد ہوئے،صحابہ کی عدالت پر قرآنی آیات شاہد ہیں،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔
۴؎ یعنی جبرًا زنا کیا،کذا و کذا کنایۃ یا تو اس بی بی کا قول ہے یا بی بی نے تو صراحۃً زنا کہا تھا راوی نے اسے اس طرح روایت کیا پہلے کذا سے چھا جانا مراد ہے دوسرے کذا سے زنا مراد۔
۵؎ یہاں بخشنے سے مراد پکڑ نہ فرمانا ہے یعنی اس زنا پر قیامت میں تیری پکڑ نہ ہوگی کیونکہ تو مجبورومعذور تھی راضی نہ تھی اور دنیا میں تجھ پر حد قائم نہ ہوگی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بخشش تو گناہ کی ہوتی ہے جب وہ عورت گنہگار ہی نہ ہوئی تو اس کی بخشش کے کیا معنے۔
۶؎ یہ شخص محصن تھا اور اس نے چار بار زنا کا اقرارکرلیا تھا تب اس کے رجم کا حکم دیا ورنہ اس زنا پر چار عینی گواہ نہ تھے صرف عورت کے کہنے سے مرد کو زنا کی سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔یہ اقرار زنا کرکے اپنے کو رجم کرا لینا اعلیٰ درجہ کی توبہ ہے۔
۷؎ اس فرمان عالی سے اس کی توبہ کی عظمت کا اظہار مقصود ہے ورنہ توبہ کی تقسیم نہیں ہوتی یعنی اگر یہ توبہ قابل تقسیم ہوتی اور اس کے حصے اہل مدینہ کی تعداد کے برابر کیے جاتے اور ہر ایک کو اس توبہ کا ایک حصہ نصیب ہوجاتا تو سب کی بخشش ہوجاتی۔اﷲ اکبر!
|
3573 -[19] وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّهُ مُحْصَنٌ فَأَمَرَ بِهِ فرجم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک مرد نے ایک عورت سے زنا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اس سے کوڑے مارے گئے ۱؎ پھر خبر دی گئی کہ وہ محصن ہے تو حکم دیا رجم کیا گیا۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غیر محصن ہونے کی غلط خبر ملی یا اس زمانہ میں مقدمہ کی زیادہ تحقیقات نہ کی جاتی تھی اس لیے گمان پر کوڑے مارے گئے۔(مرقات)خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رب تعالٰی نے علوم غیبیہ بخشے مگرا ن علوم کا ہر وقت حضور نہیں ہوتا کبھی وہ حضرات عالم کے ذرہ ذرہ سے خبردار ہوتے ہیں کبھی اپنے سے بھی بے خبر،شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا۔شعر
گہے برطارم اعلیٰ نشینم گہے برپشت پاء خود نہ بینم
نیز حاکم اپنے علم خصوصی پر کسی کو سزا نہیں دے سکتا،ثبوت شرعی پر سزا دی جاتی ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر غلطی سے بجائے رجم کے کوڑے مار دیئے گئے تو یہ کوڑے رجم کے قائم مقام نہ ہوں گے رجم علیحدہ کیا جائے گا لیکن اگر بجائے کوڑوں کے رجم کردیا گیا تو یہ رجم کوڑوں کا نائب ہوجائے گا اور محصن ہونے کی خبر دینے والوں پر اس کی جان کا تاوان ہوگا جیساکہ کتب فقہ میں مذکور ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع