دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

بھی نہیں مثلًا محصن زانی کو حاکم کہے کہ شاید تو نے بوسہ لے لیا ہوگا یا چھو لیا ہوگا وغیرہ اور ملزم کہے جی ہاں میں نے یہی کیا تھا اور رجم سے بچ جائے تو اگرچہ رجم کے لائق تھا مگر حاکم گنہگار نہیں اور مجرم کے توبہ کی امید ہے لیکن اگر اسے بغیر تحقیق رجم کردیا گیا اور واقعہ میں وہ رجم کے لائق نہ تھا تو اب تلافی کیسے ہوسکے گی اب بھی حکومتیں قتل کی سزا میں بڑی تحقیق کرتی ہیں کبھی شک کا فائدہ دے کر بری کردیتی ہیں،یہ ہی توجیہ قوی ہے۔(مرقات واشعہ)حتی کہ اگر زانی مجرم کو زنا حرام ہونے کا پتہ نہ ہو تو حد نہ لگے گی۔

3571 -[17]

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت مجبور کردی گئی ۱؎ تو حضور نے عورت سے حد دفع فرمادی۲؎ اور زنا کرنے والے پر قائم فرما دی اور یہ ذکر نہ کیا اس عورت کے لیے مہر مقرر فرمایا ۳؎(ترمذی)

۱؎ اس طرح کہ کسی نے جبرًا زنا کرلیا۔

۲؎ معلوم ہوا کہ جبرًا زنا پر حد نہیں مگر یہ حکم عورت کے متعلق ہوسکتا ہے،زانی مرد یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے مجبورًا زنا کیا تھا فلاں شخص نے مجھے زنا کرنے پر مجبور کیا تھا۔

۳؎ کیونکہ یہ صحبت محض زنا تھی اور زنا حرام ہے تو حرام شئے کا مہر یا اجرت نہیں۔جن احادیث میں وارد ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر دلوایا وہاں وطی بالشبہ کی صورت تھی کہ مرد کسی اجنبی کو اپنی بیوی سمجھ کر اس سے صحبت کرے یا نکاح فاسد سے صحبت کرے وہاں مہر دینا لازم ہوتا ہے۔

3572 -[18]

وَعَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ فَأَتَوْا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: «اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ» وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: «ارْجُمُوهُ» وَقَالَ: «لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

روایت ہے ان ہی سے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز کے ارادہ سے نکلی ۱؎ کہ ایک مرد اسے ملا جو اس پر چھا گیا۲؎ اس سے اپنی ضرورت پوری کرلی۳؎ وہ چیخی مرد چلا گیا مہاجرین کی ایک جماعت گزری وہ عورت بولی کہ اس شخص نے مجھ سے ایسا ایسا کیا ۴؎ لوگوں نے اس شخص کو پکڑ لیا پھر اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو حضور نے اس عورت سے فرمایا تو جا تجھے اﷲ نے بخش دیا۵؎ اس شخص سے فرمایا جو اس پر چھا گیا تھا اسے رجم کردو ۶؎  اور فرمایا یقینًا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگریہ توبہ سارے مدینہ والے کرتے تو ان سب کی قبول ہوجاتی ۷؎(ترمذی،ابوداؤد)

۱؎  یعنی اپنے گھر سے مسجد نبوی شریف کی طرف جارہی تھی نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے،زمانہ رسالت میں عورتوں کو مسجدوں میں حاضری کا حکم تھا حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اس کی ممانعت فرمائی حالات زمانہ کو ملاحظہ فرما کر،اب چونکہ عورتیں بازاروں، سیمناؤں،اسکولوں کالجوں اور بے دینوں کے جلسوں سے نہیں رکتیں لہذا انہیں مسجدوں کی جماعت سے بھی نہ روکو کہ یہاں آکر کچھ شرعی احکام تو سن جائیں گی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن