30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ لَحی لام کے فتحہ ح کے جزم سے جبڑے کی ہڈی جس پر دانت اُگے ہوتے ہیں،مرد کی اس ہڈی پر نیچے داڑھی ہوتی ہے اندر دانت۔
۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ رجم میں صرف پتھر مارنا ہی ضروری نہیں بلکہ اینٹ،روڑے،ہڈی سے بھی مارا جاسکتا ہے،ہاں لاٹھی یا تلوار سے نہیں مارا جائے گا کہ پھر وہ قتل ہے رجم نہیں،اگر لاٹھی ڈنڈا پھینک کر مارا تو درست ہے کہ یہ قتل نہیں رجم ہی ہے۔
۶؎ کیونکہ اس بھاگنے میں اقرار زنا سے رجوع کا احتمال تھا کہ شاید ماعزا اپنے اقرار سے پھرنے کے لیے بھاگ رہے تھے اور زنا کا اقراری اگر حد سے پہلے رجوع کرے تو حد ختم ہوجاتی ہے اور اگر حد کے دوران رجوع کرے تو باقی حد معاف ہوجاتی ہے اور اس کا رجوع درست ہوتا ہے اگر بعد رجوع بھی اسے مار دیا گیا تو مارنے والوں پر قتل خطا کی دیت واجب ہوتی ہے جو ان کے وارث مرحوم کے وارثوں کو ادا کریں گے اس لیے حضور انور نے فرمایا کہ تم کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔
۷؎ خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مارنے والوں پر نہ دیت واجب کی نہ ناراضی فرمائی کیونکہ ماعز نے صراحۃً رجوع نہ کیا تھا احتمال تھا کہ شاید رجوع کرتے ہوئے بھاگے یا تکلیف سے بے اختیار بھاگے،اگر صراحۃً رجوع کرلیا ہوتا پھر وہ ہی حکم ہوتا جو عرض کیا گیا۔اس جملہ مبارکہ اور فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زانی اگر رجم نہ ہو صرف سچی توبہ کرے جب بھی معافی کی امید ہے مگر رجم سے معافی یقینی ہے اس لیے وہ حضرات اصرار سے رجم ہوتے تھے رضی اللہ عنہم۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ اگر اقراری شرابی یا اقراری چوری جس کی چوری شراب خوری صرف اس کے اقرار سے ثابت ہو اور کوئی ثبوت نہ ہو اگر حد جاری کرنے سے پہلے یا دوران حد میں اقرار سے پھر جائیں تو حد ختم ہوجائے گی۔
|
3566 -[12] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ: «أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ؟» قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ: «بَلَغَنِي أَنَّكَ قَدْ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ»قَالَ: نَعَمْ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ فَأمر بهِ فرجم. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ما عز ابن مالک سے فرمایا کہ تمہارے متعلق مجھے جو خبر پہنچی ہے کیا وہ سچ ہے ۱؎ عرض کیا میرے متعلق کیا خبر حضور کو پہنچی فرمایا یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے فلاں قبیلہ کی لونڈی سے زنا کیا ہے۲؎ بولے ہاں پھر ماعز نے چار گواہیاں دیں تب حکم دیا گیا وہ رجم کیے گئے۳؎(مسلم) |
۱؎ خیال رہے کہ یہ حدیث گزشتہ اور آئندہ احادیث کے مخالف نہیں بلکہ ان میں اجمال ہے اور اس حدیث میں تفصیل۔واقعہ یہ ہوا کہ اولًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز سے یہ پوچھا تاکہ ماعز انکار کرکے حد سے بچ جائیں،انہوں نے بجائے انکار کے اقرار کرلیا تب حضور انور نے ان سے منہ پھیرلیا،ان احادیث میں پورا واقعہ بیان نہیں ہوا یہاں پورا بیان ہوا لہذا تعارض نہیں اور حضور انور کا یہ سوال بھی دفع حد کے لیے تھا اور منہ پھیرتے رہنا بھی اسی لیے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲؎ مرقات نے فرمایا یہاں جاریہ بمعنی بیٹی ولڑکی ہے آل زائدہ ہے۔اشعہ نے فرمایا کہ جاریہ بمعنی لونڈی ہے۔بہرحال محصن مرد خواہ محصنہ عورت سے زنا کرے یا کنواری سے یا لونڈی سے بہرحال اسے رجم کیا جائےکہ وہ خود تو محصن ہے،اشعہ کی روایت درست ہے۔
۳؎ یہاں گواہیوں سے مراد اقرار ہے کیونکہ یہ چار اقرار چار گواہیوں کے قائم مقام ہوتے ہیں اس لیے اسے گواہیاں فرمایا گیا جیسے آیت لعان میں الزام زنا اور براءت زنا کو شہادت فرمایا گیا۔
|
3567 -[13] وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ وَقَالَ لِهَزَّالٍ: «لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ» قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ: إِنَّ هَزَّالًا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيخبره. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت یزید ابن نعیم سے وہ اپنے باپ سے راوی ۱؎ کہ ماعز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کے پاس چار بار اقرار کیا تب آپ نے ان کے رجم کا حکم دیا اور ہزال سے فرمایا۲؎ کہ اگر تم اپنے کپڑے سے ڈھک لیتے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا ابن منکدر کہتے ہیں کہ ہزال نے ماعز کو مشورہ دیا تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں حضور کو یہ خبر دیں ۳؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع