30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3113 -[16] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا عَلِيُّ لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت علی سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا اے علی نہ اپنی ران کھولو ۱؎ اور نہ کسی زندہ مردہ کی ران دیکھو ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی کسی کے سامنے ران نہ کھولو اور نہ بلا ضرورت تنہائی میں کھولو رب تعالٰی سے شرم کرو کیونکہ ران ستر ہے اس سے آج کل کے نیکر پہننے والے عبرت پکڑیں جن کی آدھی رانیں کھلی ہوتی ہیں اور وہ بے تکلف لوگوں میں پھرتے ہیں اﷲ تعالٰی ایمانی غیرت نصیب کرے۔
۲؎ یعنی کسی مُردہ بالغ مسلمان کی ران نہ دیکھو اور کسی ایسے زندہ کی ران نہ دیکھو جن کا تم سے ستر ہے لہذا اس دوسرے حکم سے اپنی بیوی اور اپنی لونڈی خارج ہے ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ران ستر ہے،جس کا چھپانا فرض ہے،لہذا یہ حدیث امام مالک کے خلاف ہے، دوسرے یہ کہ مردہ کا احترام زندہ کی طرح ہے کہ اس کا ستر دیکھنا حرام ہے لہذا غسال بھی میت کو ستر ڈھک کر غسل دے اسے بھی ستر دیکھنا جائز نہیں۔
|
3114 -[17] وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَعْمَرٍ وَفَخذه مَكْشُوفَتَانِ قَالَ: «يَا مَعْمَرُ غَطِّ فَخِذَيْكَ فَإِنَّ الفخذين عَورَة» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت محمد ابن جحش سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم معمر پر گزرے،حالانکہ ان کی رانیں کھلی تھیں ۲؎ تو فرمایا اے معمر اپنی رانیں ڈھک لو،کیونکہ رانیں ستر ہیں ۳؎ (شرح سنہ) |
۱؎ محمد ابن جحش جیم اورحاء کے فتح سے ان کے حالات نہ معلوم ہوسکے غالبًا آپ صحابی ہیں اور یہ حدیث مرسل نہیں بلکہ متصل ہے۔ (اشعہ)
۲؎ معمر ابن عبداﷲ قرشی عدوی صحابی ہیں بڑے پرانے مسلمان ہیں اہل مدینہ میں شمار ہوتے ہیں چونکہ یہ حضرات پہلے سے ستر ڈھانپنے کے عادی نہ تھے نیز انہیں خبر نہ تھی کہ ران بھی ستر ہے اس لیے بے خیالی میں ران کھولے بیٹھے تھے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صحابی ستر کھولے کیوں بیٹھے تھے۔
۳؎ یعنی گھٹنوں سے ناف تک کا بدن ستر ہے اس کا چھپانا واجب ہے ناراضی کا اظہار اس لیے نہ فرمایا کہ یہ حضرت مسئلہ سے بے خبر تھے یا بے خیالی میں ان کی ران کھل گئی تھی،غرض کہ بے خبری اور بے خیالی اور دیدہ دانستہ جرم کرنا کچھ اور۔
|
3115 -[18] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْغَائِطِ وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے کہ ننگے ہونے سے بچو ۱؎ کیونکہ تمہارے ساتھ وہ ہیں جو تم سے کبھی جدا نہیں ہوتے سوائے پیشاب پاخانہ کے اور اس وقت کے جب مرد اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے۲؎ تو ان سے شرم کرو اور ان کا احترام کرو ۳؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی اکیلے میں بھی ستر نہ کھولو جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع